57

آرمی چیف اور وزیراعظم کی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ
pid

Image caption

آرمی چیف اور وزیراعظم نے آپریشن ضرب عضب اور متاثرین شمالی وزیرستان کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا،وزیراعظم ہاؤس

پاکستان کی فوج میں اہم تبدیلیوں اور اس کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی قیادت کے تبدیل ہونے کے بعد وزیر اعظم نواز شریف کے امریکہ روانہ ہونے سے پہلے فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان پیر کو ملاقات ہوئی ہے۔

سرکاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے درمیان آپریشن ضرب عضب اور متاثرین شمالی وزیرستان کےحوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں جنرل راحیل شریف نے میاں نواز شریف کو ملک سے دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے آپریشن ضرب عضب میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی بحالی کے لیے جامع حکمت عملی بھی زیرغور آئی۔

نواز شریف نے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کے لیے فوج کی خدمات کو سراہا۔

آرمی چیف اور وزیراعظم کے درمیان ملاقات میں سرحد پار افغانستان میں نئی حکومت کی صورت میں آنے والی سیاسی تبدیلی پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم نواز شریف ایک روز بعد امریکہ کے دورے پر روانہ ہو رہے ہیں جہاں وہ 26 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اہم خطاب کریں گے۔

دوسری جانب آپریشن ضرب عضب میں مزید 23 شدت پسندوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

سرکاری ٹی وی نے فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے حوالے سے خبر نشر کی ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں تازہ ترین کارروائی میں شمالی وزیرستان کے علاقے بانگی ڈار اور غلام خان میں شدت پسندوں کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جس میں 23 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز 15 جون کو ہوا تھا۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں