64

افغان تعطل کے خاتمہ پر بین الاقوامی برادری مطمئن

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

معاہدے کے تحت ڈاکٹر اشرف غنی افغانستان کے نئے صدر ہوں گے

پاکستان سمیت دنیا بھر نے افغانستان میں کئی ماہ سے جاری سیاسی تعطل کے ختم ہونے اور شراکتِ اقتدار کا معاہدہ طے پانے کا خیرمقدم کیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے افغانستان میں قومی حکومت کے قیام پر دو صدارتی امیدواروں کے درمیان ہونے والے معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے۔ ایک بیان میں پاکستانی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام اور حکومت معاہدے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور یہ انتہائی مثبت پیش رفت ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق، شراکتِ اقتدار کے معاہدے پر اتفاق رائے ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کی مدبرانہ اور قائدانہ سوچ کے باعث ممکن ہوا۔

بیان میں افغان عوام اور دونوں صدارتی امیدواروں کو مبارکباد دیتے ہوئِےکہا گیا ہے کہ پاکستان ایک پرامن، متحد اور مضبوط افغانستان کے لیے کوششیں اور مدد جاری رکھے گا۔

افغان صدارتی امیدواروں کے درمیان یہ معاہدہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کی مسلسل ثالثی کی وجہ سے ممکن ہوا اور انھوں نے معاہدہ ہوجانے کے فوراً بعد اس کا خیرمقدم کیا۔

توقع ہے کہ شراکت اقتدار کے بعد قائم ہونے والی متحدہ حکومت سب سے پہلے امریکہ کے ساتھ دوطرفہ سکیورٹی کے معاہدے کی توثیق کرے گی جو گزشتہ سال سے التواء میں ہے۔

وائٹ ہاوس کے پرس سیکریٹری کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ یہ معاہدہ افغانستان میں اتحاد اور استحکام کا باعث بنے گا۔

اس بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ افغانستان کے تمام سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماؤں پر زور دیتا رہے گا کہ وہ اس معاہدے کی حمایت کریں اور مل کر امن کے لیے کام کریں۔

ایک امریکی ترجمان نے کہا کہ متحدہ حکومت کی تشکیل ایک دشوار اور مشکل عمل ہو گا لیکن یہ کام دونوں دھڑوں کے درمیان جگھڑے سے بہتر ہے۔

انھوں نے دونوں امیدواروں کا مل کر متحدہ حکومت میں کام کرنا اور اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں کو اصلاحت پر خرچ کرنا دوسری تمام متبادل راستوں سے بہتر ہے۔ نیٹو نے بھی افغانستان میں شراکتِ اقتدار کا معاہدہ طے پائِ جانے کا خیر مقدم کیا۔

خیال رہے کہ نیٹو اور امریکی افواج اس سال کے آخر تک افغانستان سے نکل رہی ہیں۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں