51

بحریہ ڈاک یارڈ پر حملہ، بلوچستان سے تین اہلکار گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
AP

Image caption

ڈاکیارڈ پر حملہ کراچی میں بحری تنصیبات پر دوسرا بڑا حملہ تھا

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ کے قریب پاکستان نیوی کے تین ایسے اہلکاروں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر کراچی میں نیوی ڈاک یارڈ حملے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق یہ اہلکار ایک پرائیویٹ گاڑی میں کراچی سے فرار ہوئے تھے۔

ذرائع کے مطابق ان اہلکاروں کو پیر کے روزکوئٹہ شہر میں داخل ہونے سے قبل ضلع مستونگ کے علاقے لکپاس سے گرفتار کرنے کے بعد تحقیقات کے لیئے کراچی منتقل کردیا گیا ہے ۔

یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ نیوی کے یہ اہلکار کہاں جانا چاہتے تھے۔

خیال رہے کہ کراچی میں پاکستان بحریہ کے ڈاک یارڈ پر یہ حملہ شدت پسندوں نے چھ ستمبر کوکیا تھا اور اس واقعے میں گرفتار سات شدت پسندوں سے پہلے ہی تفتیش جاری ہے۔

اس حملے اور نیوی کے اہلکاروں کے درمیان چھ گھنٹے تک فائرنگ کے تبادلے میں نیوی کا ایک اہلکار اور تین حملہ آور ہلاک ہو گئے تھے جبکہ نیوی کے ایک افسر سمیت چھ اہلکار زخمی ہوئے تھے۔

پاکستان کے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بدھ کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا تھا کہ حملہ آور بحریہ کی تنصیبات اور اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچا سکے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حملے میں اندرونی مدد کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا اور بغیر اندر کی مدد کے حملہ آور سکیورٹی حصار نہیں توڑ سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا اور ایک حملہ آور کے رابطے شمالی وزیرستان میں بھی تھے۔

انھوں نے بتایا کہ حملہ آوروں سے چار خودکش جیکٹس، تین کلاشنکوفیں، نو پستول، تین سیٹلائٹ فون اور مذہبی لٹریچر بھی برآمد ہوئے تھے۔

یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے بعد یہ چوتھا بڑا حملہ ہے، اس سے پہلے کراچی ایئرپورٹ، پشاور ایئرپورٹ اور کوئٹہ میں آرمی ایوی ایشن اور ایئر فورس کے بیسزپر بھی حملے کیے جا چکے ہیں۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں