52

تحریکِ انصاف کے ڈی جے بٹ کی’گرفتاری‘

تصویر کے کاپی رائٹ
AP

Image caption

ڈی جے بٹ نے تحریکِ انصاف کے جلسوں اور دھرنوں میں نغمات بجا کر شہرت حاصل کی

پاکستان تحریکِ انصاف نے پولیس پر جماعت کے جلسوں اور آزادی مارچ سے شہرت پانے والے ڈسک جوکی ’ڈی جے بٹ‘ کو حراست میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

پی ٹی آئی کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ڈی جے بٹ کو جمعے کو رات گئے اس گیسٹ ہاؤس سے گرفتار کیا گیا جہاں وہ قیام پذیر تھے۔

اس سے قبل ٹوئٹر پر پی ٹی آئی کے آفیشل اکاؤنٹ سے کی گئی ٹویٹ کے مطابق انھیں اسلام آباد کے ایک ریستوران سے حراست میں لیا گیا۔

تحریکِ انصاف کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شیریں مزاری نے بیان میں گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’حکومتی دہشت گردی‘ قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈی جے بٹ نے کوئی قانون نہیں توڑا اور وہ تو صرف آزادی دھرنے میں ساؤنڈ سسٹم کی دیکھ بھال کے ذمہ دار تھے۔

پی ٹی آئی کی سیکریٹری اطلاعات نے ڈی جے بٹ اور اب تک گرفتار کیے گئے دیگر کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ حکومت اس قسم کی ’دہشت گردی کے ہتھکنڈوں‘ سے آزادی مارچ کے شرکا کو نہیں ڈرا سکتی۔

ڈی جے بٹ نےگذشتہ برس ہونے والے انتخابات کی مہم کے دوران جلسوں میں تحریکِ انصاف کے نغمات بجا کر شہرت حاصل کی تھی۔

وہ اپنے سازوسامان سمیت 14 اگست کو لاہور سے شروع ہونے والے آزادی مارچ میں بھی شریک ہوئے اور ڈی چوک میں پاکستان تحریکِ انصاف کے دھرنے میں کارکن اکثر ان کے بجائے جانے والے نغمات پر رقص کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

خیال رہے کہ تحریکِ انصاف کے رہنما آزادی مارچ کے آغاز سے ہی حکومت پر اپنے کارکنوں اور حامیوں کو گرفتار کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں