48

جھنگ والوں نے دو راتیں آنکھوں میں کاٹی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

اٹھارہ ہزاری کے بند کو یکے بعد دیگر تین مقامات پر بارود لگا کر اڑا دیا گیا تاکہ جھنگ شہر کو بچایا جا سکے

آدھی رات کو نیند سے بےحال ہونے کے باوجود جب مائیک اٹھائے دریائے چناب کے اس ٹوٹے بند پر پہنچا جہاں سے سیلابی پانی جھنگ شہر کی جانب جا رہا ہے تو وہاں ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد ملی جو ابھی براہ راست سیلاب کے متاثر تو نہیں تھے لیکن متاثرین ہونے کی لائن میں لگے تھے۔

مطلب یہ کہ انھیں خطرہ تھا کہ وہ پانی کسی بھی وقت جھنگ شہر میں داخل ہو سکتا ہے۔

یہ لوگ یہ جائزہ لینے آئےتھے کہ پانی چڑھ رہا ہے، اتر رہا ہے یا وہیں کھڑا ہے۔

جھنگ شہر کے لوگ سیلاب کے خوف سے دو راتوں سے سو نہیں پائے اور سارا دن بھی سیلاب کی باتیں کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک شہری محمد عمران نے بتایا کہ انھوں نے اور ان کے بچوں نے ساری رات جاگ کر گزاری۔

محمد عمران نے کہا کہ انھیں یہ دیکھ کر تسلی ہوئی ہے کہ دوپہر کے مقابلے میں علی آباد کے اس بند پر پانی تقریباً دو فٹ نیچے ہوگیا ہے اور آگے کی جانب چلنا بھی شروع ہوا ہے۔

دریا کے کنارے رہنے والے لوگوں کی دریا کو پہچاننے کی اپنی صلاحیت ہوتی ہے۔ انھوں نے سمجھایا کہ دوپہر کو پانی چل نہیں رہا تھا، پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ اس کی سطح بلند ہورہی تھی جو خطرناک بات تھی۔

یہ تو میں نے بھی دیکھ لیا تھا کہ پانی بند کے کناروں سے دو فٹ نیچے ہو چکا ہے اور وہ مکان جس کے دروازے نظر نہیں آرہے تھے اب دکھائی دینے لگا تھا۔

یہ حالت اس لیے بہتر ہوئی کہ دریائے چناب کے دوسری جانب کی آبادی ڈبو دی گئی یعنی اٹھارہ ہزاری کے بند کو یکے بعد دیگر تین مقامات پر بارود لگا کر اڑا دیا گیا تاکہ جھنگ شہر کو بچایا جا سکے۔

حکومت جہاں بھی بند توڑتی ہے ڈوبنے والے الزام لگاتے ہیں کہ ایسا جاگیرداروں اور وڈیروں کے کہنے پر کیا گیا یا خود حکمران طبقہ اس میں شامل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

پانی بند کے کناروں سے دو فٹ نیچے ہو چکا ہے اور ڈوبے ہوئے مکانات کے دروازے دکھائی دینے لگے ہیں

ان الزامات کی تصدیق تردید ایک الگ کام ہے لیکن عام شہریوں میں یہ تاثر عام پایا جاتا ہے۔

ایک رات پہلے جب اٹھارہ ہزاری بند نہیں توڑا گیا تھا تو پورے شہر میں یہ بات گردش کررہی تھی کہ سیاسی دباؤ ہے اور وہاں کے متاثرین بھکر روڈ پر مظاہرہ کر رہے ہیں اس لیے بند نہیں توڑا جا رہا اور جب توڑ دیا گیا تو اب اٹھارہ ہزاری کے لوگ سراپا احتجاج ہیں۔

دریائے چناب میں سیلاب کا بڑا ریلا وسطی پنجاب میں حفاظتی بندوں کو توڑتا، انسانی بستیوں کو غرق کرتا جنوبی پنجاب کی جانب بڑھ رہا ہے۔

صرف ضلع جھنگ اور اس کے گرد و نواح میں بدھ کو چند گھنٹوں میں سات لاکھ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ہیڈ تریموں پر سیلاب انتہائی اونچے درجے کا ہے، حفاظتی بندوں کے شگاف بڑے ہوتے جا رہے ہیں اور ہرگزرتے لمحے کوئی نہ کوئی بستی غرق ہو رہی ہے۔

وہ مقامات جو آفت زدہ ہوں ان کے شہریوں پر کیا گزرتی ہے اس کا اندازہ سیلاب کے پانی کے باہر کھڑے ہو کر نہیں لگایا جا سکتا۔

جھنگ کے نواحی علاقے علی آباد کے رہائشی حافظ عبدالمجید جھنگ کے ان لاکھوں شہریوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے رات آنکھوں میں کاٹی۔

انھوں نے کہا کہ وہ سامان باندھے اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پانی کے چڑھنے کا انتظار کرتے رہے لیکن پانی نہیں آیا اور اب ان کی اگلی رات بھی اس ذہنی کشمکش اور خوف و اذیت میں گزرے گی۔

جھنگ کے شہری ابہام کا شکار بھی ہیں۔ محمد افضل کا شکوہ ہے کہ حکومت صحیح معلومات فراہم نہیں کر رہی جبکہ ٹی وی چینلوں کی معلومات بھی متضاد ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ چینل تریموں پر پانی کا لیول الگ الگ بتاتے ہیں جس سے خوف میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔

جھنگ شہر سے کئی خاندان نقل مکانی کر چکے ہیں اور کئی نے گھر کا سامان بالائی منزلوں میں پہنچا دیا ہے۔ لڑکے بالے نیکر اور بنیان پہن کر ساری رات گلیوں میں پھرتے ہیں کہ جب سیلاب آئے گا تو بھاگنے میں آسانی ہوگی۔

میری بھانجی جس حویلی میں رہتی ہے اس کی دیواروں پر سیلابی پانی کے دس فٹ اونچے نشان آج بھی ملتے ہیں جو 50 برس پہلے جھنگ شہر میں آنے والے سیلاب کی یاد دلاتے ہیں۔

ان نشانوں نے بھی اس کی جان عذاب کر رکھی ہے۔ علی آباد بند پر پانی کم ہونے کی اطلاع بی بی سی ریڈیو کے علاوہ اس کو بھی دی اور خود بھی سکھ کا سانس لیا۔

اب نسبتاً سکون کی نیند سو سکوں گا کیونکہ نیند کی حالت میں آدھی رات کو ایسے ہی دریا تک نہیں گیا تھا۔

بی بی سی کی رپورٹنگ کے ساتھ ساتھ اپنا اطمینان بھی ضروری تھا۔ آخر میں بھی تو اس آفت زدہ شہر کا حصہ ہوں، چاہے دو راتوں کے لیے ہی سہی۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں