38

حضرت ابراھیم علیہ السلام

حضرت ابراھیم علیہ السلام
پیدائش
حضرت ابراھیم علیہ السلام 2200قبل مسیح عراق کے مشہور شہر میں پیدا ہوئےآپ مسلمانوں یہودیوں اور عیسائیوں سب کے پیشوا ہیں یہ خصوصیت اور پیغمبر کا حصہ ںہیں
تبلیغ اسلام
حضرت چنے اپنی قوم کو اسلام کی دعوت دی یہ لوگ ستارہ پرست مشرک تھےبتوں کو پوجتے تھے آپ نے انہیں توحید کی دعوت دی ایک مرتبہ آپ نے اس وقت بتوں کو ٹکرے ٹکرے کر دیا جب قوم میلے میں گئی ہوئی تھی.ان لوگوں کو حضرت ابراھیم علیہ السلام پر شبہ گزرا اور آپ ہی کو بت توڑنے کا مجرم ٹھرایا.یہ معاملہ حاکم وقت نمرود کے دربار میں جا پہنچاآپ نے جرات کے ساتھ تو حید کے دلائل دیےاور نمرود جس نے خدائی کا دعوہ کیا تھا اس کی عبادت سے انکار کر دیا.
نمرود سے مناظرہ
آپ کا اس موقع پر نمرود سے مناظرہ ہواقرآن پاک کے الفاظ میں یہ مناظرہ درج ذیل ہے”کیا آپ نے اس شخص کی طرف دیکھا جس نے ابراھیم علیہ السلام سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیاکہ اللہ تعالیٰ نے اسے بادچاہت دی تھی جب ابراھیم علیہ السلام نے کہا میرا رب وہ ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہےاس نے کہا میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں.ابراھیم علیہ السلام نے کیا بے شک اللہ تعالی سورج کو مشرق سے نکالتا ہے پس تو اسے مغرب سے لے اآتو وہ کافر حیران رہ گیا”(بقرہ:258)
پہلی آزمائش:اب نمرود جواب ہو گیا تو راہ روست اختیار کرنے کے بجائے ابراھیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا حکم دیا لیکن یہ آگ اللہ کے حکم سے ٹھنٹدی اورسلا متی والی بن گئی.ارشاد بانی ہے:ہم نے کہا اے آگ تو انراہیم پر ٹھنٹدیاور سلامتی والی ہو جاء(انبیا69)
ہجرت
حضرت ابراھیم علیہ السلام کی قوم نے راہ ہدایت کے جبائے گمراہی کا راستہ اختیار کیا.حضرت ابراھیم علیہ السلام ان طرف سے مایوس ہو گے تو ازن الہیٰ سے ہجرت فرمائی.اس وقت حضرت ابراھیم علیہ السلام کی عمر 75 سال تھی.

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں