current urdu news 30

حضر ت یحیحیٰ

ا یک ر و ا یت میں ہے کہ حضر ت ا پنے وا لد کی و فا ت کے بعد بھت د نو ں تک مسجد کے ا ند رہی میں مشغو ل رہے ا وربنی ا سرائیل میں ملکہ نا م کی عو ر ت تھی اور پہلے شو ہر سے ا س کے ایک بیٹی تھی اوروہ یہ چا ھتی تھی کہ شوہرثا نی کا ا پنی بیٹی سے نکاح کردےاورتمام قوم بنی اسرائیل کی اس با ت پر متفق تھی اور پھر حضر ت یحیی نے کہا کہ تمہا ری بیٹی سے تمہا رے شو ہر کا نکا ح درست نہیں ہے- اس با ت کو سن کر ملکہ عورت نےغصہ ہو کر اپنے شو ہر سے یہ با ت کہ حضرت یحیی ا س کام سے منع کر تے ہیں کہ دختر ربیعہ سے نکا ح کر نا درست نیہں ہے اور وہ شہر کا بادشاہ تھا اس نے یہ سن کر فورا حکم دیا کہ حضر ت یحیی کو باندھ کرمیر ے پاس لاو- تب بمو جب حکم اس کے کا فروں نے حضرت یحیی کو اس طرح سے حا ضر کیا- ویہں حضرت جبرائیل نا زل ہو ئے فر ما یا اے یحیی اگر تم کہوتو اس شہر کہ غارت کر دوں- حضر ت یحیی نے کہا اے جبرائیل میری تقدیر میں یہی لکھا ھے کہ میں اس کع ھا تھ سع مارا جاوں وہ بو لے ہاں- تب حضرت یحیینے کہا: رضیت بقضاء اللہ تعا لی-ترجعہ: راضی ہوں میں اللہ تعا لی کے فیصلے پر- بالا خر اس بادشاہ مردود نے حضر ت یحیی کو مارا ڈالا- جب سر مبارک بد ن سے جدا کیا تہ پھر کہا اے بادشاہ اپنی بیو ی کی بیٹی سے درست نیہں- فرشتو ں نے یہ حال دیکھ کر جناب باری تعالی میں عرض کی یا الہی یحیی نے کیا گناہ کیا جو اس طر ح مارا گیا-

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں