62

خیبر ایجنسی: بم حملے میں ایک شدت پسند ہلاک


تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

خیبر ایجنسی میں متعدد بار فوجی کارروائیاں کی گئی ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تنظیم سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں کے گاڑی پر ہونے والے ریموٹ کنٹرول بم حملے میں ایک شدت پسند ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

پولیٹکل انتظامیہ خیبر ایجنسی کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ واقعہ جمعے کی صبح تحصیل باڑہ کے علاقے سپاہ میں پیش آیا۔

انھوں نے کہا کہ غیر قانونی تنظیم لشکر اسلام سے تعلق رکھنے والے جنگجو گاڑی میں سفر کر رہے تھے کہ سپاہ کے علاقے میں ان کی گاڑی سڑک کے کنارے نصب ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بنی۔

انھوں نے کہا کہ دھماکے میں ایک شدت پسند ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ تاہم بی بی سی کو ملنے والی بعض اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تین ہے۔ اہلکار کے مطابق حملے میں گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ حالیہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب چند دن قبل ہی لشکر اسلام کے ایک سابق ترجمان کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے گذشتہ کئی سالوں سے غیر قانونی تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم حکومت کی طرف سے متعدد بار دعوے کے باوجود ابھی تک علاقہ شدت پسندوں سے صاف نہیں کرایا جا سکا ہے۔

تین دن پہلے بھی فوج کی طرف سے خیبر ایجنسی کے علاقے وادی تیراہ میں فضائی حملے کیے تھے جس میں 20 شدت پسندوں کے مارے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔

بنوں میں فائرنگ سے خاتون ہلاک

خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں شمالی وزیرستان سے نقل مکانی کرنے والے خاندان پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ایک خاتون ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیس کےمطابق یہ واقعہ جمعہ کو صبح سویرے جانی خیل کے علاقے میں پیش آیا۔ بنوں پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ شمالی وزیرستان کے علاقے عیدک سے بے گھر ہونے والا ایک خاندان گاڑی میں جا رہا تھا کہ مسلح افراد کی طرف سے ان پر فائرنگ کی گئی جس سے ایک خاتون موقع ہی پر ہلاک اور تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔

زخمیوں میں ایک خاتون، بچہ اور ایک مرد شامل ہیں۔ تاہم اس واقعہ کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہو سکی۔

خیال رہے کہ بنوں میں گذشتہ روز جمعرات کو بھی جانی خیل کے علاقے میں مسلح افراد کی طرف سے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں دو اہلکار ہلاک ہوگئے تھے جبکہ جوابی حملے میں ایک حملہ آور بھی مارا گیا تھا۔ پولیس نے حملے کا الزام شدت پسندوں کے سیف اللہ گروپ پر لگایا تھا۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں