11

دستورِ پاکستان کا اصل مسودہ کہاں ہے؟

سندھ ہائی کورٹتصویر کے کاپی رائٹ

Image caption

عدالت نے درخواست کو قابل سماعت قرار دیکر وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور اسپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کردیے

دستور پاکستان کا اصل مسودہ پارلیمنٹ کے ریکارڈ میں موجود ہے یا لاپتہ ہوگیا ہے؟ سندھ ہائی کورٹ نے ایک آئینی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سپیکر قومی اسمبلی سے جواب طلب کرلیا ہے۔

راہ راست ٹرسٹ نامی ایک فلاحی ادارے کے چیئرمین آغا عطااللہ شاہ نے اپنی درخواست میں وفاقی وزرات داخلہ اور اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو فریق بناتے ہوئے عدالت کو آگاہ کیا ہے کہ ان کی درخواست پر 1973 کے دستور کے اصل مسودے کی چوری کا مقدمہ درج نہیں کیا جا رہا ہے۔

ان کا دعوٰی ہے کہ مسودے کی چوری کے حوالے سے مختلف اخبارات اور ویب سائٹس پر آنے والی خبروں میں صداقت ہے۔ اصل مسودہ جس پر آئین ساز اسمبلی کے تمام اراکین اور اس وقت کے صدر پاکستان کے دستخط موجود ہیں لاپتہ ہوچکا ہے، ایک بڑے عرصے سے دستور کی تصدیق شدہ کاپی نہیں دیکھی گئی۔

درخواست گذار نے آئین میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب اُس وقت کی سپیکر فہمیدہ مرزا نے ترامیم کی منظوری سے قبل اصل مسودہ دیکھنے کی درخواست کی تھی تو انہیں بتایا گیا تھا کہ مسودہ لاپتہ ہوچکا ہے۔

آغا عطااللہ شاہ نے عدالت سے گذارش کی ہے کہ دستور پاکستان کے اصل مسودے کو اہم اور مصدقہ دستاویزات قرار دے کر اس کی ساکھ اور اصلیت سے چھیڑ چھاڑ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا جائے۔

درخواست گذار کا دعویٰ ہے کہ دستور پاکستان کا مسودہ 20 اگست دو ہزار گیارہ سے لاپتہ ہے، تین سال گذرنے کے باوجود اس کی ایف آئی آر درج نہیں کرائی گئی ہے، عدالت حکم جاری کرے کہ واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تحقیقات کی جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس عقیل احمد عباسی اور جسٹس جنید غفار پر مشتمل بینچ نے درخواست کو قابل سماعت قرار دے کر وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور سپیکر قومی اسمبلی کو نوٹس جاری کردیے۔

واضح رہے کہ یہ درخواست 2013 میں دائر کی گئی تھی، جج صاحبان نے درخواست گذار کو ہدایت کی تھی کہ وہ ثابت کریں کہ یہ قابل سماعت ہے۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں