رسالت نبوی

رسالت نبوی اسلام کے سلسلہ عقا ئد میں توحید کع بعد رسالت کا درجہ ہے- رسالت کع لغوی معنی ” پیغام پہچانا” ہیں اور پیغام پہچانے والے کہ رسول کہا جاتا ہے-اسلامی اصطلا ح میں رسول اس ہستی کو کہا جاتا ہےجسے اللہ تعالی نے اپنے احکام کی تبلیغ کے لیے اپنی مخلوق کی طرف بھیجا ہو-رسول کو نبی بھی کھا جاتا ہے- نبی کے معنی “خبر د ینے والا” چو نکہ رسول لوگوں کو اللہ کا کے ارشادات سے اگاہ کرتا ہے اس لیے اسے نبی کہا جاتا ہے- انبیاء اور رسول اپنے معا شرے کے بے حد نیک اور پارسا انسان ہوتے ہیں-جن پر اللہ تعالی وحی کے زریعے اپنے احکام نازل فرماتا ہے وحی کے لغوی معنی دل میں چپکے سے کوئی بات ڈالنا اور اشارہ کرنے کے ہیں-اور اسلامی اصطلاح میں مراد اللہ تعالی کا وہ پیغام ہے جو اس نے اپنے کسے رسول کی طرف فرشتے کے زریعے نازل کیا یا براہراست اس کے دل ےا کسی پردے کع پیچھے سے اسے سنوادیا- اللہ تعالی نے فرمایا : ترجمہ: “اوریہ کسی بشر کا مقام نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے- مگر ہاں ےا تو وحی سے یا کسی پردے کے پیچھے سے یا کسی قاصد کہ بیھج دے سو وحی پہنچا دے اللہ کے حکم سے جو اللہ کو منظور ہوتا ہے”
اللہ نے دنیا کی مختلف اقوام کی طرف رسول بیھجے- قرآن مجید میں ارشاد ہوا:
ترجمہ: اور ہم نے اٹھائےہیں ہر امت میں رسول-
بعض روایات میں انبیاء کی تعداد ایک لاکھ چوبیس ہزار بیان کی گئ مگر قرآن مجید میں صرف چند انبیاء کا زکر کیا گیا ہے-
ترجمہ: “اور ھم نے آپ سے پہلے بہت سے رسہل بیھجے- جن میں بعض کا حال ھم نے آپ سے بیان کیا ہے اور ان میں سے بعض کا حال ھم نے آٔ سے بیان نہیں کیاہے”-

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں