10

سیلاب سے بچاؤ کے لیے ریت کی دیوار

Image caption

بندوں کی اونچائی اور چوڑائی میں اضافہ کیا جا رہا ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کے شہر کندھ کوٹ شہر سے 15 کلومیٹر دور ٹوڑھی بند پر ایک درجن سے زائد ٹریکٹر ٹرالیاں اور نصف درجن کے قریب ڈمپر موجود ہیں، جن سے ریت حفاظتی بند پر اتاری جا رہی ہے جبکہ مزدور کدالوں کی مدد سے دو فٹ اونچی دیوار بنا رہے ہیں۔

بندوں کی مرمت کی نگرانی کے لیے قریب ہی ایک کیمپ بھی قائم ہے جس میں مقامی حکام اور حکمران جماعت سے وابستہ سیاست دان موجود ہیں، ساتھ میں ہی ایک طبی کیمپ قائم کیا گیا ہے جہاں آس پاس کے لوگ ڈاکٹروں کی موجودگی سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں اور یہاں انھیں طبی معائنے کے بعد کھانسی، بخار یا کوئی ملٹی وٹامن سیرپ فراہم کیا جاتا ہے۔

پولیو سے بچاؤ کی ویکیسن بھی یہاں موجود ہے۔ کیمپ میں موجود کارکن نے بتایا کہ مہم کے دوران وہ کچے میں جا کر بچوں کو قطرے پلاتے ہیں تاحال انھیں مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ڈپٹی کمشنر کشمور حفیظ احمد سیال نے بتایا کہ 2010 میں سیلاب کے بعد ٹوڑھی بند کو مثال بنا کر بندوں کو مضبوط کیا گیا ہے۔

اس بنیاد پر بندوں کی اونچائی اور چوڑائی میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد اب یہ بند مضبوط ہیں اور چار سے پانچ لاکھ کیوسک کیا دس لاکھ کیوسک پانی کا دباؤ بھی برداشت کر سکتے ہیں۔ ساتھ میں اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ کہیں کہیں اگر جانور بل بنا لیتے ہیں تو وہاں سے شگاف پڑ سکتا ہے یا پانی کٹاؤ کر سکتا ہے اس لیے 24 گھنٹے نگرانی ضروری ہے۔

2010کے سیلاب کے بعد اس مقام پر یہ ہمارا دوسرا دورہ تھا، سیلاب کے اگلے سال یعنی 2011 میں پتھروں کی پچنگ کی گئی تھی اور حفاظتی بند بھی کچھ صحت مند نظر آتے تھے جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ کچھ کام ہوا ہے، لیکن اس بار ان بندوں کی حالت بھی ایسی تھی جیسے خوراک کی کمی کی وجہ سے بچوں کے جسم سکڑ جاتے ہیں اور کوئی بھی بیماری کبھی بھی حملہ آور ہو سکتی ہے۔

قریب ہی میرانی گاؤں ہے جو 2010 میں ٹوڑھی بند کو شگاف پڑنے سے متاثر ہوا تھا۔ یہاں کے نوجوان لیاقت میرانی نے بتایا کہ صوبائی وزیر میر ہزار خان بجارانی چند ہفتے پہلے یہاں آئے تھے اور انھوں نے بند کی صورتحال دیکھ کر شکایت کی جس کے بعد یہاں مرمتی کام کا آغاز ہوا۔

لیاقت میرانی کا کہنا تھا کہ ’جس جگہ بندوں کی مرمت کی جا رہی ہے یہاں سٹون پچنگ یعنی پتھروں کی مدد سے بند کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہ پانی کا مقابلہ کر سکے، اس کے برعکس جو ریت ڈالی جا رہی ہے اسے تو دریائے بہا کر لے جائے گا اور دوبارہ بند ٹوٹ جائیں گے۔‘

Image caption

پتھروں کی بجائے ریت کی بوریوں سے بند کو مضبوط بنایا جا رہا ہے

محکمۂ آْبپاشی کے ریکارڈ میں اگر دیکھا جائے تو بندوں کی مضبوطی کے لیے اربوں روپے کی مالیت سے پتھروں کی پچنگ اور مٹی ڈالی جاتی ہے، لیکن اس کا آڈٹ ممکن نہیں کہ کتنے ٹرک مٹی اور پتھر لایا گیا۔

2010 کے سیلاب کے بعد بندوں اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے سندھ کی حکومت نے ایشیائی ترقیاتی بینک سے آسان شرائط پر 40 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا قرضہ حاصل کیا تھا۔

2010 کے سیلاب کے بعد قائم ہونے والے سپریم کورٹ کے فلڈ کمیشن نے اپنی سفارشات میں بندوں کی مرمت اور مضبوطی کا مشورہ دیا تھا تاکہ مستقبل میں جانی ومالی نقصان سے بچا جا سکے۔

ٹوڑھی بند کے قریب ہی گاؤں سیفل چاچڑ واقع ہے جس کے سامنے سے حفاظتی بند 2010 کا سیلاب بہا کر لے گیا تھا جس کے بعد اس بند کی دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکی ہے۔ سیلابی پانی آنے سے یہ گاؤں پانی کے گھیرے میں ہیں۔ اس گاؤں میں چند ایک کشتیاں ہیں جبکہ زیادہ تر لوگ ٹیوب کی مدد سے تیر کر کنارے پر پہنچتے ہیں۔

Image caption

طبی کیمپ بھی قائم کیا گیا ہے جس سے مقامی آبادی فائدہ حاصل کر رہی ہے

شہزاد احمد چاچڑ ٹیوب پر تیر کر کنارے پر پہنچے تھے۔ ان کا شکوہ تھا کہ تین سالوں میں وہ سیاست دانوں اور حکام کو کئی درخواستیں دے چکے ہیں لیکن یہ بند تعمیر نہیں ہو سکا ہے۔

سپریم کورٹ کے فلڈ کمیشن کی ایک سفارش میں شہروں سے گزرنے والے دریا اور نہروں سے تجاوزات ہٹانا بھی شامل تھے، جس پر صرف سکھر شہر کے ایک حصے میں عمل درآمد نظر آتا ہے جبکہ گدو، سکھر کے نہروں کے ساتھ کوٹڑی اور حیدر آباد میں اس وقت بھی آْبادی موجود ہے۔

پنجاب میں دریاؤں کے سیلابی پانی کو مختلف مقامات پر کٹ لگا کر رخ تبدیل کرنے اور گدو بیراج کے کچھ دروازوں کی فنی خرابی کے باعث مکمل طور پر اوپر نہ اٹھنے کی وجہ سے سندھ میں داخل ہونے والے پانی کی مقدار اور دباؤ کم ہوگیا ہے، بصورت دیگر حفاظتی بندوں کو شگاف پڑنے کے خدشات موجود تھے۔

ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی پہلے ہی ایسے 45 مقامات کی نشاندہی کر چکی تھی جو غیر محفوظ ہیں۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں