98

سیلاب کا رخ اب ملتان کی جانب، لاکھوں متاثر

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں سے 1 لاکھ 40 ہزار متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب، شمالی علاقہ جات اور پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 264 تک پہنچ گئی ہے جبکہ لاکھوں افراد سیلابی پانی سے متاثر ہوئے ہیں۔

دریائے چناب میں آنے والا بڑا سیلابی ریلا اس وقت صوبہ پنجاب کے وسطی اضلاع میں تباہی مچانے کے بعد اب جنوبی ضلع ملتان کی جانب بڑھ رہا ہے۔

حکومتِ پنجاب نے کہا ہے کہ اس وقت بچاؤ اور امداد کے آپریشن کا مرکز جھنگ اور ملتان کے اضلاع ہیں۔

حکومتِ پنجاب کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے مطابق جمعرات کی صبح تک صوبے کے مختلف علاقوں سے 184 افراد کی ہلاکت اور 347 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر میں بارشوں سے ہلاکتوں کی تعداد 66 رہی اور شمالی علاقے گلگت بلتستان میں 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

صوبہ پنجاب کی کابینہ کمیٹی برائے سیلاب کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے صوبے میں 49 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ بقیہ 135 افراد بارشوں کے نتیجے میں پیش آنے والے حادثات کا شکار ہوئے تھے۔

کمیٹی کے ارکان نے جمعرات کو لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 18 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

سیلاب زدہ علاقوں میں 500 امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق کابینہ کمیٹی کے رکن زعیم قادری کا کہنا تھا کہ پنجاب کے متاثرہ علاقوں میں 500 امدادی کیمپ لگائے گئے ہیں جبکہ 1 لاکھ 40 ہزار متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

سیلاب کی صورتحال کے بارے میں بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر شجاع خانزادہ نے بتایا کہ جھنگ میں تریموں کے مقام پر اب بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے اور وہاں سے ساڑھے پانچ لاکھ کیوسک سے زیادہ پانی گزر رہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ تریموں پر پانی کا دباؤ کم کرنے کے لیے اٹھارہ ہزاری کے مقام پر 800 فٹ کا شگاف ڈالا گیا تھا اور اگر پانی کی شدت کم نہ ہوئی تو اسی مقام پر اتنا بڑا ایک اور شگاف بھی ڈالنے کی تیاری مکمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نجوانہ میں پڑنے والے قدرتی شگاف سے جھنگ کی جانب 40 ہزار کیوسک پانی آیا اور اس شگاف کو پر کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

شجاع خانزادہ نے کہا کہ جھنگ کے بعد اب سیلابی ریلے کا رخ ملتان کی جانب ہے جہاں سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے اور پانی بڑھنے کی صورت میں دو مقامات محمد والا برج اور شیر شاہ برج کے قریب شگاف ڈالنے کی تیاریاں کی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

نجوانہ میں پڑنے والے قدرتی شگاف سے جھنگ کی جانب 40 ہزار کیوسک پانی آیا

انھوں نے کہا ایسا ہونے کی صورت میں ملتان کے جنوبی دیہی علاقوں میں پانی آئے گا اور ان علاقوں سے آبادی کو پہلے ہی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں امداد اور بچاؤ کا آپریشن جاری ہے جس میں فوج ضلعی انتظامیہ کے ساتھ شریک ہے۔

ان کے مطابق امدادی کارروائیوں میں 16 ہیلی کاپٹر اور 550 سے زیادہ کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

آئی ایس پی آر نے بھی امدادی کارروائیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا ہے جس کے مطابق سیلاب سےمتاثرہ علاقوں جھنگ، اٹھارہ ہزاری، احمد پور سیال ،پیرکوٹ اور چنیوٹ میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیںاور اس دوران چار ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب سے دو ہزار چار سو سے زیادہ دیہات متاثر ہوئے ہیں جن میں 2300 سے زیادہ مکانات مکمل جبکہ چھ ہزار کے قریب جزوی طور پر تباہ ہوئے ہیں۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں