47

’مذاکرات میں تعطل کی وجہ وزیراعظم کا استعفیٰ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

’اگر معاملہ انتخابی دھاندلی کی تفتیش کا ہے، تو پھر تو پورا الیکشن عدالتی کمیشن کے سامنے جائے گا‘

اسلام آباد کے ڈی چوک میں جاری احتجاجی دھرنے کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات ایک نکتے پر جا کر اٹک گئے ہیں اور یہ نکتہ وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے کا مطالبہ نہیں ہے۔

ان مذاکرات کی تفصیل سے آگاہ وزیر اعظم کے ایک مشیر کے مطابق تحریک انصاف کی مذاکراتی ٹیم قومی اسمبلی کے ’مخصوص‘ 30 حلقوں کی تحقیقات کے مطالبے پر ڈٹی ہوئی ہے اور اس کے مقابلے میں حکومت کی جانب سے تمام حلقوں کی تحقیقات کی پیشکش کو بھی تسلیم نہیں کر رہی۔

قومی امور کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ صرف مخصوص حلقوں کی تفتیش پر زور دینا تحریک انصاف کے اس مطالبے کو پراسرار بنا رہا ہے۔

’تحریک انصاف صرف ان 30 حلقوں کو کھلوانا چاہتی ہے جن کا انتخاب اس نے خود کیا ہے۔ وہ یہ انتخاب عدالت پر بھی نہیں چھوڑنا چاہتے، مسلم لیگ کو بھی یہ حق نہیں دینا چاہتے، ان مخصوص حلقوں پر اصرار کے پیچھے جو راز ہے اس کی پراسراریت ان کی سمجھ میں آ رہی ہو گی، ہماری سمجھ میں نہیں آ رہی۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے سینیئر رہنما شفقت محمود نے تصدیق کی کہ ان کی جماعت ’چند‘ حلقوں کی تحقیق کروانا چاہتی ہے لیکن اگر حکومت اپنی طرف سے یا مجوزہ تحقیقاتی کمیشن اپنے طور پر مزید حلقوں کو شامل کرنا چاہے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔

’بلوچستان کے بعض حلقوں کے بارے میں تحقیق کیوں نہیں کی جا سکتی؟ اگر حکومت چاہتی ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کے بعض حلقوں کو کھلوائے تو ہمیں اس پر بھی کوئی اعتراض نہیں ہے۔‘

تاہم شفقت محمود نے اس حکومتی تجویز سے اتفاق نہیں کیا کہ تمام 272 حلقوں کی تحقیق کی جائے۔’ہم یہ بات یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ انتخابی دھاندلی کی تفتیش کی رپورٹ 45 دن میں سامنے آ جائے۔‘

ان مذاکرات کا حصہ رہنے والے بلوچستان سے سرکاری جماعت کے سینیٹر میر حاصل بزنجو کے مطابق تحریک انصاف کا یہ مطالبہ غیر منطقی ہے۔

’45 دنوں میں پورے انتخابات کی تفتیش ممکن نہیں ہے اور 30 حلقوں کی بنیاد پر 272 حلقوں کے نتائج کو پرکھا نہیں جا سکتا۔‘

حکومت کا خیال ہے کہ تحریک انصاف جن 30 حلقوں کی تفتیش کروانا چاہتی ہے وہاں تحریک انصاف کے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے نادیدہ قوتوں نے کچھ گڑ بڑ ضرور کی ہے اسی لیے تحریک انصاف انھی مخصوص حلقوں کی تفتیش پر زور دے رہی ہے۔

عرفان صدیقی نے اس گڑبڑ کے بارے میں براہ راست تبصرہ کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے کہا کہ ’ان 30 نشستوں کی تفتیش کا مطالبہ بھی وزیراعظم کے استعفے کے مطالبے کی طرح پراسرار ہے۔‘

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ اگر عمران خان کی جماعت کو انتخابات میں دھاندلی ہونے کا یقین ہے اور اس بارے میں اپنے الزامات پر اعتماد ہے تو وہ تمام حلقوں کی تحقیق و تفتیش، یا کسی بھی حلقے کو کھول دینے کی حکومتی پیشکش یا عدالتی فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار کیوں نہیں ہے۔

’پہلے وہ چار حقلوں کی بات کرتے تھے پھر دس اور اب 30۔ کیوں، حلقوں کی تعداد کیوں مخصوص کرتے ہیں۔ جب حکومت اپنا سر عدالتی شکنجے میں دینے کے لیے تیار ہو گئی ہے تو اسے تمام 272 حلقوں کو جانچنے دو۔ ان مخصوص 30 حلقوں پر اصرار کا کیا مطلب ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

شفقت محمود نے اس حکومتی تجویز سے اتفاق نہیں کیا کہ تمام 272 حلقوں کی تحقیق کی جائے: عرفان صدیقی

عرفان صدیقی نے کہا کہ اگر معاملہ انتخابی دھاندلی کی تفتیش کا ہے، تو پھر تو پورا الیکشن عدالتی کمیشن کے سامنے جائے گا۔

’لیکن پراسرار طور پر وہ اس مطالبے کو 30 حلقوں تک محدود رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں میں یہی کہہ سکتا ہوں کہ ان کے اس مطالبے کے پیچھے کچھ ایسے معاملات ہیں جو حکومت کی فہم اور سوچ سے دور ہیں اور جس کا ادراک صرف انھی کو ہے۔‘

شفقت محمود کہتے ہیں کہ گذشتہ انتخابات کے دوران یہ گڑبڑ نواز شریف کو جتوانے کے لیے کی گئی تھی۔

’جن 14 حلقوں کے انتخابی ریکارڈ کی اب تک تفتیش ہوئی ہے اس دوران بیلٹ بکسوں سے عجیب عجیب چیزیں نکلی ہیں۔ کہیں سے ردی نکلی ہے، کہیں سے غیر تصدیق شدہ بیلٹ پیپرز نکلے ہیں، بہت کچھ نکلا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس ریکارڈ کی منتخب نمونے کے ذریعے تحقیق کی جائے۔‘

حکومت اور تحریک انصاف کے درمیان شروع ہونے والی اس نئی بحث سے ایک بات بظاہر پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اور وہ ہے عمران خان کا نواز شریف سے مستعفی ہونے کا مطالبہ۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں