40

ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے شدت پسند گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ
AP

Image caption

’گرفتار کیے گئے افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان پر مقدمہ چلے گا‘

پاکستانی فوج کے ترجمان جنرل میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ 2012 میں منگورہ میں ملالہ یوسف زئی اور ان کی ساتھی طالبات شازیہ اور کائنات پر حملہ کرنے والے شدت پسند گرفتار کر لیےگئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ملالہ اور دو دیگر طالبات پر حملہ ’شوریٰ‘ نامی گروہ نے کیا تھا۔

’تعلیم نہیں طالبان کی مخالفت پر نشانہ بنایا‘

ان کا کہنا تھا کہ اس گروہ کا سرغنہ ظفر اقبال تھا اور یہ گروہ ملا فضل اللہ کی ہدایات پر عمل کر رہا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اس تنظیم میں10 شدت پسند شامل ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ ان افراد کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا جائے گا جہاں ان پر مقدمہ چلے گا۔

عاصم باجوہ کا کہنا تھا کہ ملالہ یوسف زئی پر حملہ کرنے والے گروہ کے تمام اراکین کا تعلق مالاکنڈ سے تھا اور اس سلسلے میں سب سے پہلے اسرارالرحمان نامی شدت پسند کو حراست میں لیا گیا۔

انھوں نے بتایا کہ اس گروہ کو پکڑنے میں ایک سال لگا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
ISPR

Image caption

میجر جنرل عاصم باجوہ نے بتایا کہ ملالہ یوسفزئی اور دو دیگر طالبات پر فائرنگ اسرار نے کی

میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ملا فضل اللہ افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہے اور یہ معاملہ ہر سطح پر افغانستان کے ساتھ اٹھایا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آخری شدت پسند کے خاتمے تک شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب جاری رہے گا اور اس کے اس کے لیے اگر شہری علاقوں میں بھی جانا پڑا تو جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ضرب عضب کا آغاز ہونے سے قبل ہی افغانستان کو ہر سطح آگاہ کر دیا گیا تھا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان کی جانب سے آپریشن میں زیادہ مدد نہیں کی جا رہی۔

آئی ایس پی آر کے ترجمان نے بتایا کہ بلوچستان میں قائد اعظم ریذیڈینسی پر حملہ کرنے والے شدت پسند بھی گرفتار ہو چکے ہیں۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں