ایمان کا دعویٰ کرنے والو 51

نفسیات منا فقین

نفسیات منا فقین:.
نفسیات منا فقین اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیات کے دن پر ایمان لائے ہیں حالا نکہ لانے والے نہیں ہیں.وہ اللہ اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتےہےحالا نکہ اصل میںوہ خود کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں.لیکن انہیں اس بات کا شعور نہیں ہے.ان کے دلوں میں بیماری ہے،اللہ نے ان کی بیماری کو مزید بڑھا دیا ہے،اوران کے لیے جھوٹ بولنے کی وجہ سے درد ناک عذیب ہے،
تفسیر:.
نفسیات منا فقین گزشتہ آیات کریمہ میں دو قسم کے لوگوں کا زکر کیا گیا ہےپہلے وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ، قانون الہیٰ پر کار بندرہے والے اور دوسرے وہ لوگ جو اللہ کے نافرمان اور اس کے قانون کو توڑنے والےہیں.یہاں سے لوگوں کی ایک تیسری قسم کا ذکر شروع ہوتاہے.یہ وہ لوگ ہے صرف دنیاوی مفادات کی خاطر صرف زبان سے اعمان کا اظہار کرتےہیں.لیکن ان کے دل دولت اعمان سے خالی ہے ان لوگوں کے لیے منافقین کا لفظ استعمال کیا گیاہے.منافقت کا لفظ نفق سے نکلاہے جس کے لغوی معنی ایسی سر نگ کے ہیں جو دہ منہ رکھتی ہو. غرض مناقفت کے معنی دھوکہ دہی ےا دوہر چال چلنے کےہیں.
6ھ میں منافقین نی واقعہ افک کے علاوہ بھی گھناو نی حرکات کیں اور شان رسالت میں گستاخی کا ارتکاب کیا.جب عبداللہ بن ابی سے کہاگیاکہ اللہ کے نبی سے معافی ما نگو تو اس نے بجاے نادم ہونے کے اپنارویہ مزید سخت کر لیا.
9ھ میں منافقین نےکسی دینی ضرورت کے بغیر ایک مسجد تعمیر کی. جس میں بیٹھ کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے اور منصوبے بناتے تھے. قرآن نے اسے مسجد ضرار کا نام دیا. بعد میں اللہ تعالی کے حکم سے نبی اکرم نے اس مسجد کو گرادیا. منافقین کے اس کردار کو اللہ تعالی نے قرآن میں جگہ جگہ بیان کیا ہے اور ان کی سازشوں اور شرارتوں کا پردہ چاک کیا ہے جن میں سے سب سے پہلا مقام سورئہ بقرہ کی یہ آیات ہیں. اب ان آیات کی روشنی میں ہم منافقین کی علامات کا جائزہ لیتے ہیں.

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں