63

وزیر اعظم، وزیر اعلیٰ اور وزیر داخلہ کے خلاف قتل کا مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ

Image caption

لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے لیے بھی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا

اسلام آباد میں پولیس نے دارالحکومت میں جاری دھرنے میں شریک دو افراد کی ہلاکت پر وزیر اعظم میاں نواز شریف، وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف، اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سمیت تین وفاقی وزرا کے خلاف قتل اور اقدامِ قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے۔

تھانہ سیکریٹیریٹ میں درج ہونے والے اس مقدمے میں اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔

تھانہ سیکریٹیریٹ کے اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے حکم پر یہ مقدمہ پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل عمر ریاض عباسی کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

مقدمے میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ سے 31 اگست کو دھرنوں میں شریک دو افراد ہلاک ہوئے ہیں اور اس کارروائی کا حکم وزیر اعظم اور وزیر داخلہ نے دیا تھا۔

اس سے پہلے لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن میں بھی وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب سمیت دیگر افراد کے خلاف قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

رواں برس 17 جون کو لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں منہاج القران کے دفتر کے باہر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے دوران 14 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسلام آباد میں درج مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 302، 324 اور 109 کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ سات بھی شامل کی گئی ہے۔

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس مقدمے میں ایسے کوئی شواہد نہیں ملے کہ وزیر اعظم ، وزیر اعلی اور وفاقی وزراء سمیت مقامی انتظامیہ کے افسران کے اس معاملے میں شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

وزیراعظم کو پاکستان کا آئین استثنیٰ نہیں دیتا:طاہر القادری

مقامی تھانے کے اہلکار کا کہنا ہے کہ پولیس کو کہیں سے بھی احکامات نہیں ملے تھے کہ وہ مظاہرین پر فائرنگ کریں اس کے علاوہ پولیس کو جائے حادثہ سے گولیوں کے خول نہیں ملے۔

مقامی پولیس کا کہنا تھا کہ اس مقدمے کی تفتیش کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے سے متعلق بھی ابھی تک احکامات موصول نہیں ہوئے۔

ادھر پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے اسلام آباد میں مظاہرین کے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے بعد وزیراعظم میاں نواز شریف اور دیگر نامزد ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

بدھ کو دھرنے کے شرکا سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پاکستان کا آئین استثنیٰ نہیں دیتا۔

طاہر القادری نے کہا کہ عدلیہ نے حکم دیا ہے کہ وزیراعظم کے خلاف قتل، اقدام قتل اور دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر پولیس کو گرفتار کرنے کی جرات نہیں تو قانون نافذ کرنے والے اور عدل نافذ کرنے والے دیگر ادارے وزیراعظم اور دیگر نامزاد ملزمان کو گرفتار کریں اور عوام کو عدل انصاف فراہم کرنے میں مدد کریں۔‘

طاہرالقادری نے کپڑے سے علامتی پھانسی کا پھندا بناتے ہوئے دھرنے کے شرکاء سے نعرے لگوائے’ آج نہیں تو کل پھانسی‘۔

انھوں نے اس مقدمے کی تفتیش بھی مقامی پولیس سے نہ کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کے کارکن گذشتہ ایک مہینے سے اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے دیے ہوئے ہیں جن کا مرکزی مطالبہ وزیرِ اعظم نواز شریف کا استعفیٰ ہے۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں