71

پانی پینے کے آداب‘ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس

پانی پینے کے آداب‘ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم اور جدید سائنس
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ
جناب عبداللہ عباس رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اونٹ کی طرح ایک سانس میں پانی مت پیاکروتین سانس میں پیاکرو جب پینے لگوتو بسمہ اللہ پڑ ھ کرپیو۔ فا رغ ہو الحمداللہ کہو ۔
حضور اقدس نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اگر تمہیں پتہ لگ جائے کہ کھٹر ے ہو کر پانی پینے کا اتنا نقصان ہے تو وہ پانی تم حلق میں انگلی ڈال کر باہر نکال دو۔
جدید سائنسی تحقیق کے مطابق کھڑے ہو کر اور ایک سانس میں پانی پینے سے جسم میں پانی جلد جذب ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے گردوں پر گہرا اثر پڑتا ہے اور جسم کے تمام حصوں پر ورم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔ خصوصا پاؤں پر جیسے سائنسی اصطلاح میں () کہا جاتا ہے۔
کھانے کے بعد پانی پینا معدے کے عضلات کو ڈھلا کرتا ہے معدے کی اندرونی جھلی کے ورم کا باعث بنتا ہے اور معدے میں اساس () کی نسبت کم ہو جاتی ہے اور تزابیت بڑھ جاتی ہے۔
تین سانسوں میں پانی پہنے کا عمل صحت کے لئے مفید ہے۔ وقفوں سے گھونٹ‘بھرنے سے آخری گھونٹ‘پہلے سے لئے جانے والے گھونٹوں سے رہ جانے والی پیاس کو بجھاتا ہے۔ مزید کہ یہ طریقہ معدے کے درجہ حرارت کو غیر معمولی تبدیلی سے بھی روکتا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں