9

ہمدردی اور علم و عمل

ہمدردی اور علم و عمل
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:کہ جسن نے کسی مومن سے دنیا کی سختیوں میں سے کوئی سختی دور کر دی تو اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی سختیوں میں سے کوئی سختی دور کر دے گا اور جس نے کسی تنگ د ست پر آسانی کی تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس پر آسانی فرمائے گااور جس شخص نے کسی مسلمان کی عیب چھپائے تو اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ شی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مددکرتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد کرتا ہے اور جو علم کی طلب میں کسی راستہ پر چلتا ہے اللہ اس کے لئے جنت کا راستہ آسان کر د یتاہے.اور لوگوں کی کوئی جماعت جب اللہ کے گھروں میں سے کسی گھرمیں اکٹھی ہواور(وہ لوگ) کتاب اللہ کی تلاوت کریں اور ایک دوسرے کو باہم درس دیں توان پر سکون و اطمینان نازل ہوتاہےاور اللہ کی رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے.فرشتے ان کا احاطہ کرلیتے ہیں اور اپنے مقربین میں ان کا ذکر کرتا ہے اورجس کا عمل کا عمل اسے پچھے کردے گا اس کا نسب اسےآگے نہیں بڑھائے گا(مسلم)
تشریح
مشکل حالات میں ساتھ دینا:انسانی زندگی میں اچھے اور برے دن آتے رہتے ہیں.خاص طور پر برے ایام بڑے کٹھن ہوتے ہیں.ان حالات میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کی مالی مددکرنی چاہیے.امداداورنفاق کا کھلے دل سے مظاہرہ کیا جائے.کمزوروں کی مدد سے ہی معاشرے ترقی یا فتہ بن سکتا ہے.
پردہ پوشی:انسان کی زندگی میں کچھ کمزوریاں بھی ہوتی ہیں اور ساتھ ہی مجبوریاں اس کی زندگی میں عیب بن جاتی ہیں.اس لئے ہمیں اپنے مسلمان بھائیوں کی کمزوریاں کی پردہ پوشی کرنی چا ہیے نہ کہ ان کو پھیلالر ذلیل کیا جائے.اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے سختی دور کرنے اور عیوب کی پردہ پوشی کا بھاری اجر مقررکیا ہے

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں