81

یاقوت

یاقوت

یہ درجہ اول کا پتھر ہے، اس کی چار بڑی قسمیں ہیں،درجہ اول کا شفاف روبی کئی ہزار روپے فی قیراط ہوتا ہے مگر طبی اور سحری فوائد حاصل کرنے کے لئے کسی بھی درجہ کا سرخ یاقوت پہنا جا سکتا ہے، لہزا کم قیمت ہونے کی وجہ سے درجہ سوئم کے سرخ یاقوت کا انتخاب کیا گیا ہے، تاکہ عام لوگ بھی اس کے خواص سے فائدہ اٹھا سکیں، اس کے بےشمار رنگ اور قسمیں ہیں-
پھچان: اصلی یاقوت سرخ رنگت کا چمکیلا اور بھاری پن ہوتا ہے ہتھیلی پر رکھنے سے ہلکی سی گرمی ہونے لگتی ہے شیشے کے برتن میں رکھنے سے چاروں طرف ہلکی سی لال کرنیں دکھائی دیتی ہیں گائے کے دودھ میں رکھا جائے تو دودھ کا رنگ گلابی دکھائی دیگا- اگر چاندی کی تھالی میں موتیوں کے ساتھ ایک یاقوت رکھ دیا جائے تو سبھی موتی لال رنگ کے دکھائی دیں گے-گرم دوپہر کے وقت روئی میں رکھنے سے روئی میں آگ لگ جائے گی اصلی نگ کی یہی پھچان ہے کہ چمکیلا اور بھاری اور کنیر کے پھولوں جیسا رنگ ہونا چاہیے- اس کے نقص کالے اور دودھیا رنگ کی آڑی تڑچھی لکیریں ہوتی ہیں- دودھ میں جو رنگ نہ دے- جس میں گڑھے پڑے ہوں ایسا نگ کبھی پہننے کے قابل نہیں ہوتا الٹا برا اثر دیتا ہے-
پہننے کی ترکیب:

اس نگ کو اتوار کے دن سورج کی سماعت میں سونے یا چاندی کی انگوٹھی میں جڑوائیں اور چھوٹی انگلی کے ساتھ والی انگلی میں پہننا چاہیے- نگ کا وزن تین، پانچ، سات، نو رتی تک ہونا چاہیے طریقے کے مطابق پہننے سے حکومت وقت میں عزت اور مان میں اضافہ ہوتا ہے جن کو اولاد نہ ہوتی ہو اس کے پہننے سے فائدہ ہوتا ہے- دل کی بیماری آنکھوں کی بیماری خون کی بیماری اور جسمانی کمزوریوں میں مفید ہے، 

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں