67

’یہ جلسہ نہیں بلکہ امید اور آزادی کا لشکر ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ
BBC World Service

Image caption

کراچی میں تحریکِ انصاف کے جلسے میں مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی

جسم پر سفید رنگ کا کرتا شلوار، چہرے پر ہلکی داڑھی اور سر پر گولڈن کڑھائی والی سفید ٹوپی۔ دور سے پتہ لگ جاتا ہے کہ اس شخص کا تعلق بوہری برادری سے ہے۔ غلام مصطفیٰ بھی اسی روایتی لباس میں خاندان کی چار خواتین کے ہمراہ تحریک انصاف کی جلسہ گاہ میں موجود تھے۔

کراچی میں سینیٹری، ہارڈویئر اور پلاسٹک میٹریل کے کاروبار سے وابستہ بوہری برادری نے سیاست میں خود کو صرف انتخابات کے روز تک محدود رکھا ہے اور اپنی سیاسی وابستگی کا کبھی اظہار نہیں کیا۔ انھیں کبھی کسی سیاسی جلسے جلوس میں بھی نہیں دیکھا گیا۔

غلام مصطفیٰ کا کہنا تھا کہ وہ تحریک انصاف کے جلسے کو جلسہ سمجھ کر نہیں بلکہ امید اور آزادی کا لشکر سمجھ کر آئے ہیں، وہ امن کی سیاست کرتے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ عمران کا جلسہ پر امن ہوگا۔ ان کا یہ بھی خیال تھا کہ عمران خان ہی وی آئی پی کلچر کی موت ہیں۔

بوہری جماعت سے تعلق رکھنے والے غلام مصطفیٰ اکیلے نہیں تھے جو روایت کو توڑ کر اہل خانہ کے ساتھ باہر نکلے تھے۔ ان کی جماعت کے کئی دیگر لوگ بھی نظر آئے جن میں فرسٹ ایئر کے طالب علم علی اصغر بھی شامل تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ کرپشن کا خاتمہ ہو اور وہ آزادی اور سکون سے جی سکیں جو اس وقت کراچی میں نہیں ہے۔

کراچی میں بڑے عرصے سے لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ تحریک انصاف کے جلسے میں ایک طرف اہل تشیع اور بوہری جماعت موجود تھی تو دیوبندی اور بریلوی مکتب فکر کے لوگ بھی شریک تھے۔

کنواری کالونی منگھو پیر سے بھی نوجوان جلسے میں شرکت کے لیے پہنچے۔ یہ علاقہ طالبان کے زیر اثر سمجھا جاتا ہے۔ ایک نوجوان شاہ محمد کا کہنا تھا کہ کنواری کالونی میں رینجرز گھروں میں گھس جاتے ہیں، وہاں کوئی دہشت گرد نہیں یہ سب کچھ نواز شریف کر رہا ہے۔ شاہ محمد کا بھائی منصف بس کنڈیکٹر تھا، اس کو گرفتار کیا گیا۔ شاہ محمد نے بتایا کہ وہ انصاف کے لیے تحریک انصاف کے جلسے میں آئے ہیں۔

شہر کی متوسط طبقے کی آبادی والے علاقے گلشن اقبال کے نوجوانوں سے ملاقات ہوئی۔ فرسٹ ایئر کے طالب علم صدام حسین کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ نیا پاکستان ایسا ہو جہاں مہنگائی، ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی نہ ہو، یہاں سیاسی جماعتوں کی دشمنیاں ہوگئی ہیں جو ایک دوسرے کے بندے مارتی ہیں۔

بزرگ رکشہ ڈرائیور علی اکبر، ناظم آباد مجاہد کالونی سے یہ سوچ کر جلسے میں آئے تھے کہ میڈیا ان کی بھی فریاد سنے گا۔ ریڈیو مائیک دیکھ کر وہ ہمارے پاس بھی آگئے اور بتایا کہ ان کے دو نوجوان بیٹے بیروزگاری کی وجہ سے ذہنی مریض بن چکے ہیں جن میں ایک 2007 میں کار ساز کے مقام پر بےنظیر بھٹو کے استقبالیہ میں دھماکے میں زخمی ہوگیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
BBC World Service

Image caption

رکشہ ڈرائیور علی اکبر نے بتایا کہ ان کے دو بیٹے بےروزگاری کی وجہ سے ذہنی مریض بن چکے ہیں

علی اکبر نے ٹیلی گرام کی رسید دکھائی اور بتایا کہ ایک سال پہلے انھوں نے وزیر اعظم نواز شریف کو تار بھیجا تھا لیکن ابھی تک کوئی مدد نہیں کی گئی۔

کراچی میں عام طور پر خواتین تفریح گاہوں اور بازاروں میں تو نظر آتی ہیں لیکن سیاسی جلسوں میں ان کی شرکت کم ہی ہوتی ہے۔ تحریک انصاف کے جلسے میں کئی لوگ اپنے پورے خاندان کے ساتھ آئے تھے جن میں بچے اور بوڑھے بھی شامل تھے۔

کرن ظفر پہلی بار کسی سیاسی جلسے میں آئی تھیں۔ ان کا اپنا بوتیک ہے وہ شاہراہ فیصل پر رہتی ہیں جہاں ایئرپورٹ کی وجہ سے اکثر وی آئی پی موومنٹ رہتی ہے، شاید اسی وجہ سے وہ وی آئی پی کلچر سے بیزار ہیں۔ کرن ظفر کا کہنا تھا کہ ’جب حکمران اپنا سارا پیسہ جا کر برطانیہ میں لگاتے ہیں تو وہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ سرمایہ کار پاکستان میں آئیں۔ یہ سراسر دھوکہ ہے۔‘

شعیب خان ادویات کی ایک کمپنی میں ملازم ہیں۔ وہ ملیر کینٹ سے پورے خاندان کے ساتھ جلسے میں شریک تھے۔ انھوں نے بتایا زندگی میں صرف ایک بار ووٹ دیا ہے وہ بھی گذشتہ انتخابات میں تحریک انصاف کو دیا تھا کیونکہ اس سے پہلے جس مقصد کے لیے وہ ووٹ دیتے تھے، وہ نظر نہیں آتا تھا۔ ان کے خیال میں تحریک انصاف واحد جماعت ہے جس میں کوئی لسانی تفریق نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
BBC World Service

Image caption

شعیب خان نے صرف ایک بار ووٹ دیا ہے اور وہ بھی تحریکِ انصاف کو

شعیب خان کی صاحبزادی درشہوار کالج کی طالبہ ہیں۔ انھوں نے چہرے پر پینٹ کرا رکھا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ سوچ کر آئے تھے کہ عمران خان کو دیکھیں گے، تاکہ ان کا سامنے سے خطاب سن کر ان میں بھی جوش وہ جذبہ پیدا ہو اور وہ جاگیں۔ بقول ان کے پاکستان کے حالات اچھے ہوں تو ان کے حالات بھی اچھے ہو جائیں گے۔

زین احمد گلشن اقبال سے اپنے ساتھ دو کرسیاں بھی لائے تھے۔ وہ تحریک انصاف کے علاوہ کسی سیاسی جماعت کے جلسے میں نہیں گئے یہاں فیلمی کے ساتھ آئے تھے۔

انھوں نے کہا: ’یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ فوج نے پیسے دیے ہیں ہم تو اپنی مرضی سے آئے ہیں کسی نے ہمیں نہیں کہا، میں این ای ڈی یونیورسٹی کے شعبے آرکیٹیکچر کا طالب علم ہوں، کل پرچہ ہے پھر بھی یہاں آنا ضروری سمجھا ہے۔‘

تحریک انصاف میں کچھ ایسے شرکا سے بھی ملاقات ہوئی جو ماضی میں متحدہ قومی موومنٹ کے ووٹر رہے ہیں۔ ان میں جمال احمد بھی شامل تھے جو ڈیفنس سے اپنی بیگم کے ساتھ آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ دوسری جماعتیں نظام کی تبدیلی میں سنجیدہ نہیں ہیں، وہ کرپٹ نظام کو جاری رکھنا چاہتی ہیں، لیکن عمران خان کافی فیئر آدمی لگ رہا ہے وہ کرپشن فری نظام دینا چاہتا ہے جس کے بغیر نوجوانوں کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔

محمد زین ایم کیو ایم کے حمایتی تھے لیکن اب وہ تحریک انصاف کو ووٹ دینا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق اب انھیں ایک اچھا لیڈر ملا ہے جو اس سے پہلے نہیں تھا، وہ اچھا کام کر رہا ہے اور لوگوں کو مطمئن کر رہا ہے اسی لیے لوگ خود سڑکوں پر آ رہے ہیں کوئی انھیں زبردستی نہیں نکال رہا۔

اسی طرح شعیب اختر بھی ماضی میں ایم کیو ایم کے ووٹر رہے ہیں لیکن اب وہ عمران خان کی اس وجہ سے حمایت کرتے ہیں کیونکہ وہ احتساب چاہتے ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ عمران کو ایک موقع ملنا چاہیے۔



Source link

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں