37

کافروں کی ہدایت سے محرومی

کافروں کی ہدایت سے محرومی
بے شک وہ جنہوں نے کفر کیا.ان کے لئے آپ صلی اللہ علیہ و سلم ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں برابرہے وہ اعمان نہیں لا ئیں گے.اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگادی ہےاور ان کی آنکھوں‌پر پردہ ہےاور ان کے لئے بڑا عذاب ہے.
جب بھی انسان کو اللہ کی طرف بلایا گیا تو اس دعوت وتبلیغ میں تین قسم کے گروہ سامنے آئے.
1 پہلے گروہ میں وہ لوگ شامل ہے جنہوں نے دعوت حق کو دل وجان سےقبول کیااور اللہ تعالیٰ کے مقرب بن کر مو منین اور متقین کہلائے.
2 دوسرے گرومیںوہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے دعوت حق کی بھر پور مخالفت کی اور کمہ حق کو قبول کرنے سے انکار کت دیا.قرآن کریم نے ایسے لوگوں کے لئے کفار کا لفظ استعمال کیا ہے. یہی لوگ اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کے حقدار ٹھہرے.
3 تیسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جوزبان سے تو کمہ حق کااقرار کرتے ہیں لیکن دل سے کمہ حق کا انکار کرتے ہیں ان کومنافقین کا نام دیا گیا ہے.
امام ابن کثیر حغرت عبداللہ بن عباس کے حوالہ سے لکھتے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو اس بات کا رنج تھا کہ کفار مکہ قرآن کریم سننےکے ساتھ ساتھ معجزات دیکھنے کے باوجود اعمان کیوں نہیں لاتےاور کفر پر کیوں ڈٹےہوئے ہیں.چنانچہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی تسلی کے لئےان آیات کانزول ہوا اورآیت میں اس بات کی وضات کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کاطر یقہ ہر لحاظ سے مکمل ہے.اس میں کوئی کمی نہیں ہے.ان کا اعماننہ لانا صرف اس وجہ سے ہے کہ یہ لوگ ہٹ دھرمی،غروروتکبرپر ڈٹےہو ئے ہے اور حق کی پہچان کرنےمیں یہ لوگدھوکہ کھارہے ہے چونکہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کا کامحض دعوتِ حق دینا ہے.لہذا آپ صلی اللہ علیہ و سلم اپنا کام جاری رکھیں.ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے.

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں