aur apny pass apni zindgi nhe 22

اور اپنے پاس اپنی بھی یہ زندگی نہیں

وشمہ خاں وشمہ
اور اپنے پاس اپنی بھی یہ زندگی نہیں

جانے کو جا چکی ہے کوئی روشنی نہیں
اور اپنے پاس اپنی بھی یہ زندگی نہیں

اب جارہی ہوں دور میں ، آؤں گی پھر کبھی
باتیں بھی ہوں گی پیار کی پر دل لگی نہیں

رکھا ہوا ہے آپ نے چاہت کا در کھلا
لیکن تمہارے پیار میں وہ دلبری نہیں

اب ڈھونڈتی ہوں میں بھی وہ فرصت کے رات دن
لیکن جہانِ آرزو میں زندگی نہیں

ہم دل کو لے کے آ گئے ہیں کس جہان میں
جنگل ہے آس پاس کوئی آدمی نہیں

نازک ہیں میرے ہاتھ میں قسمت کی چوڑیاں
دے دوں گی اپنی جان مگر ، خودکشی نہیں

رہتا ہے مجھ کو وشمہ جی اُس اجنبی کا پاس
جس نے وفا تو کی تھی مگر عاشقی نہیں

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں