بول کی بولتی بند

بول کی بولتی بند سپریم کورٹ نے نجی ٹی وی چینل بول کے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ پر پابندی برقرار رکھی ہے اور عدالت کا کہنا ہے کہ ٹی وی کی انتظامیہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے مذکورہ پروگرام پر پابندی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرسکتی ہے۔
پیمرا کی عامر لیاقت اور ان کے پروگرام پر پابندی
’پیمرا عامر لیاقت متفق، ایسا نہیں چلے گا‘
پیمرا نے 26 جنوری کو متعدد شکایات کی مد میں نجی ٹی وی پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ پر پابندی عائد کردی تھی لیکن اس کے باوجود بول کی انتظامیہ نے اس پروگرام کی نشریات جاری رکھی تھی۔ بول کی انتظامیہ نے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے حکم امتناعی حاصل کیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کے خلاف پیمرا کے حکام نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

جسٹس امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پیمرا کی اس اپیل کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ بول کی انتظامیہ کے پاس پیمرا کے 26 جنوری کے حکم کے خلاف اپیل کا قانونی جواز نہیں تھا۔
بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا نے پروگرام روکنے کا حکم دیا مگر ٹی وی انتظامیہ نے پھر بھی نشریات جاری رکھی۔
اُنھوں نے کہا کہ ملک میں ادارے ’چیک اینڈ بیلنس‘ کے لیے بنائے جاتے ہیں اور اگر اسی طرح اداروں کی احکامات کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو پھر اداروں کی مضبوطی اور قانون کی عمل داری کو کیسے یقینی بنایا جاسکتا ہے۔
جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ مذکورہ ٹی وی کی انتظامیہ کو پیمرا کے حکم پر کوئی اعتراض تھا تو اس کی الگ سے اپیل دائر کرنی چاہیے تھی۔
ٹی وی پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ کے میزبان عامر لیاقت حسین روسٹم پر آئے اور کہا کہ اُنھیں پوری دنیا میں گالیاں دی جارہی ہیں لیکن اُنھوں نے اس پر کوئی بات نہیں کی۔ اُنھوں نے کہا کہ اُنھوں نے اپنے پروگرام میں کبھی بھی نفرت انگیز یا پھر شر انگیز باتیں نہیں کہیں۔
بینچ کے سربراہ نے عامر لیاقت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُنھوں نے اپنے پروگرام میں کچھ تو ایسی باتیں کی ہوں گی جس کی وجہ سے پیمرا نے اس پروگرام پر پابندی عائد کی ہے۔
عامر لیاقت حسین نے کہا کہ وہ پیمرا میں اپنا جواب جمع کروائیں گے۔ انھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ پیمرا کو اس بات کا پابند بنائیں کہ وہ سات روز میں اس کا فیصلہ کریں جس پر امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ پہلے وہ اپنا جواب تو داخل کروائیں۔ اُنھوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ پیمرا مناسب وقت میں اس معاملے کو نمٹائے گی۔
عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ بول کی انتظامیہ پیمرا کے اس حکم کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کرسکتی ہے اور عدالت فریقین کو سن کر اس بارے میں فیصلہ کرے۔
پیمرا کی اس درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے باہر سول سوسائٹی اور لال مسجد فاؤنڈیشن کے ارکان بھی موجود تھے۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں