چین اور انڈیا سرحدی کشیدگی 27

چین اور انڈیا سرحدی کشیدگی -جانئیے پوری بات

دلی میں واقع چین کے سفارتخانے نے سرحدی کشیدگی اور حالیہ ٹرین حادثات، سیلاب کی صورتحال اور وبائی امراض کے پیش نظر اپنے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ انڈیا کے اندر سفر کے دوران خصوصی احتیاط سے کام لیں۔
دلی میں چینی سفارتخانے کی طرف سے جاری کی گئی ایک ’ایڈوائزری‘ یا ہدایت میں کہا گیا ہے کہ چینی شہری سفر کے دوران اپنی ذاتی سلامتی کا خیال رکھیں اور اردگرد اور مقامی حالات پر نظر رکھیں۔ چینی شہریوں کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ ملک کے اندر غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔

چینی شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ سفر کرتے وقت اپنا شناختی کارڈ ضرور لے کر چلیں اور اپنے سفر کی تفصیلات کے بارے میں اپنے ساتھیوں، دوستوں اور فیملی کوآگاہ رکھیں۔ یہ ایڈوائزری اس سال کے آواخر تک لاگو رہے گی۔

 China and India border stress
China and India border stress
 China and India border stress
China and India border stress
 China and India border stress

China and India border stress

یہ دوسرا موقع ہے جب چین نے اپنے شہریوں کے تحفط کے لیے دلی میں اس طرح کی ایڈوائڑوی جاری کی ہے۔ اس سے پہلے چین نے سات جولائی کو ایک ایڈوائزری جاری کی تھی جس کی مدت ایک مہینے کی تھی۔
چین اور انڈیا کے درمیان گذشتہ دومہینے سے ڈوکلام سرحدی خطے میں زبردست کشیدگی ہے۔ چین کئی باربھارت کو وارننگ دے چکا ہے کہ وہ اپنے فوجیوں کو ڈوکلام خطے سے واپس بلائے جہاں چین کے بقول یہ فوجی غیر قانونی طور پر داخل ہوئے ہیں اور چینی فوج کو ایک سڑک کی تعمیر سے روک دیا ہے۔ بھارت کا کہنا ہے کہ یہ زمین بھوٹان کی ہے اور اس کی فوج بھوٹان کی درخواست پر اس علاقے میں داخل ہوئی ہے۔
دونوں ملکوں میں شدید کشیدگی کے درمیان چین کے ایک سینئر تجزیہ کار نے کہا ہے کہ جوابی کارروائی کے طور پر انڈیا میں علیحدگی پسندي کی تحریکوں کو ہوا دینا کارگر نہیں ہوگا۔
روزنامہ پیپلز ڈیلی کے سینئر ایڈیٹر ڈ ینگ گینگ نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے پس منظر میں بعض چینی دانشوروں نے یہ رائے دی تھی کہ چونکہ انڈیا تبت کی آزادی کے لیے برسرپیکار عناصر کی مدد کرتا ہے اس لیے چین کو بھی انڈیا پر دباؤ بنانے کے لیے ‘وہاں کے علیحدگی پسندوں کا کارڈ کھیلنا چاہیے۔’

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں