corrupt politicians of pakistan 128

موٹو گینگ کون ہے موٹو گینگ نےکیا کہا-جانئیے پوری بات

وزیرِاعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کی بیرون ملک دولت کے حوالے سے سپریم کورٹ میں جاری مقدمے کی سماعت کے دوران کمرہ عدالت سے پہلے سپریم کورٹ کے باہر کے مناظر انتہائی دلچسپ ہوتے ہیں۔
پانی و بجلی کے وزیر مملکت عابد شیر علی جب اپنے چند کارکنوں کے ہمراہ عدالتی کارروائی دیکھنے کے لیے سپریم کورٹ میں آرہے تھے تو پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ندیم افضل چن بھی وہاں پر آگئے تو سیاسی طور پر ایک دوسرے کے حریف مانے جانے والے دونوں رہنما ایک دوسرے کے گلے ملے۔
اس دوران دونوں کے درمیان دلچسپ جملوں کا بھی تبادلہ ہوا۔ عابد شیر علی نے ندیم افضل چن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آجکل اُن کی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی حمایت میں بات کر رہی ہے اور پی ٹی آئی کے لوگ جھوٹ زیادہ بولتے ہیں اس لیے ’اُنھیں انڈے نہ پر پڑیں اس لیے اُنھیں ساتھ لے جاتا ہوں‘ جس پر ندیم افضل چن نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ کی حفاظت کے لیے آئے ہیں کیونکہ مسلم لیگ نون پر سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کا بھی الزام ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان آج بھی مقدمے کی سماعت سننے عدالت میں نہیں آئے۔۔ عمران خان وزیرِاعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے خاندان پر پاناما لیکس کے سامنے آنے کے بعد چلنے والے اس مقدمے میں درخواست گزاروں میں سے ایک ہیں۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران ایک موقع پر وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن نے کہا کہ جے آئی ٹی میں پیشی کے دوران ان کے موکل کے ساتھ جو تعصبانہ سلوک رکھا گیا اس سے میں ( طارق حسن) پرشان ہوں جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ نعیم بخاری پہلے ہی کہہ چکے ہیں وکیل نہیں اس کا موکل ہارتا ہے۔ اس پر کمرہ عدالت میں ایک قہقہ بلند ہوا۔
جے آئی ٹی کی طرف سے سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ جمع کروانے کے بعد سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کی وجہ سے سپریم کورٹ کی عمارت کے نہ صرف باہر بلکہ کمرہ عدالت کے باہر بھی درجنوں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا بلکہ جب بھی کوئی سیاسی جماعت کا رہنما کمرہ عدالت سے نکل کر باہر جاتا تو کم از کم سات پولیس اہلکار اُن کے ساتھ ہوتے اور وائرلیس کے ذریعے گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں کو آگاہ کرتے جس کے بعد مرکزی دروازے پر سیکیورٹی بڑھا دی جاتی تھی۔
عمران خان کے وکیل نعیم بخاری جب گھر جانے کے لیے گاڑی میں بیٹھے تو میڈیا کے نمائندوں نے اُنھیں گھیر لیا اور ان سے پوچھا کہ ’لوگ اب آپ کو سٹپنی وکیل کہہ کہ پکارتے ہیں جس پر انھوں نے کہا کہ دوسروں کا تو پتہ نہیں لیکن موٹو گینگ ضرور ایسا کرتا ہوں گا۔‘

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں