current news in pakistan 40

میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ آخر گئی کہاں- جان کرحیرت ہوگی

(پوری بات ڈاٹ کام) جامشورو میں واقع لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کی سیکنڈ ایئر کی طالبہ نورین 10 فروری کی صبح گھر سے یونیورسٹی کا کہہ کر نکلی تھیں لیکن ابھی تک واپس نہیں لوٹیں۔ والدین نےدر در بیٹی کو ڈھونڈا اور جب کہیں سراغ نہ ملا تو 25 فروری کو حیدرآباد کے ایک تھانے حسین آباد میں بیٹی کے اغوا کی رپورٹ درج کرادی۔
پولس کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ وہ لاہور کی بس میں سوار ہوئی تھیں۔اس کے بعد سوشل میڈیا پر ان کے حوالے سے یہ بیان نشر ہوتا ہے کہ وہ ’خلافت‘ کی سرزمین پر پہنچ گئی ہیں۔
ان کے والد پروفیسر عبدالجبار لغاری نے اس بیان کو رد کر دیا اور کہا کہ یہ تحقیقات کا رخ موڑنے کی کوشش ہے۔ نورین کے والد سندھ یونیورسٹی میں شعبہ کیمسٹری میں استاد ہیں۔
جیسے ہی یہ خبر نشر ہوئی کہ لاہور میں دہشت گردوں کے ساتھ ایک مقابلے میں ایک دہشت گرد مارا گیا ہے، اور ان کے دو ساتھی حراست میں لیے گئے ہیں جن میں ایک خاتون شامل ہے تو ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ حراست میں لی جانے والی خاتون نورین لغاری ہیں۔
نورین کے بارے میں کئے گئے براہ راست سوال کے جواب میں نورین کے والد کا کہنا تھا کہ وہ ابھی تک ان کے بارے میں لا علم ہیں۔ ان کو کسی بھی سرکاری ذریعے سے اتوار کی دوپہر تک نورین لغاری کی برآمدگی کے بارے میں باضابطہ طور پر آگاہ نہیں کیا ہے۔
پولیس کو بھی علم نہیں کہ نورین لاہور میں بازیاب ہوئی ہیں اور حراست میں ہیں۔ حیدرآباد کے ایس ایس پی عرفان بلوچ نے ہفتے کی رات فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں علم نہیں کہ حراست میں لی جانے والے خاتون نورین ہیں۔
ان کے والد نے 26 مارچ کو حیدرآباد پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کی تھی۔ جب ان سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا نورین انتہا پسندوں کے ساتھ رابطے میں تھیں یا ان سے مرعوب تھیں تو پروفیسر لغاری نے جواب میں کہا تھا کہ ایسا ہرگز نہیں- انھوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کے بارے میں انھیں علم ہے کہ اس کے کسی کے ساتھ روابط نہیں تھے۔
سوال کرنے والے صحافی سے انہوں نے کہا کہ آپ کی داڑھی ہے اور میری داڑھی نہیں ہے، مجھے تو آپ پر بھی شک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’نماز پڑھنے کی وجہ سے کوئی انتہا پسند نہیں ہوجاتا۔ میں بھی نماز پڑھتا ہوں تو کیا میں انتہا پسند ہوں یا مجھ پر لیبل لگ گیا۔‘
نورین کے بھائی افضل لغاری کا اتوار کی صبح کہنا تھا کہ ’یہ موقف پولیس کا تھا اور ہے، ہم اس کی تردید کرتے آئے ہیں۔ ہم تو ابھی تک اس کیس کو اغوا کا سمجھتے ہیں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ اگر وہ لڑکی نورین لغاری ہے تو ممکن ہے کسی دہشت گرد تنظیم نے اغوا کیا ہوگا۔ ہم سے تو رابطہ نہیں کیا گیا ہے اب تک۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں