دانا اور دور اندیش

دانا اور دور اندیش
اس حدیث پاک میں بتایا گیا ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ لوگوں سے بڑا دانا ، عقلمند اور محتاچ شخص کون ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ شخص سمجھدار اور ہوشیار ہے جو موت کو کثرت سے یاد رکھتا ہے اور اس کی تیاری کرتا رہتا ہے، نیز اس کا فائدہ بتایا کہ ایسے عقلمند لوگ دنیا میں عزت و شرف سے رخصت ہونگے اور آخرت میں اعزاز واکرام حاصل کریں گے-ایک اور حدیث میں ہے : ترجمہ: لزتوں کو کاٹنے والی موت کو بہت یاد کیا کرو
یعنی یہ بات تمھارے ذہن سے اوجھل نہ ہو جائے کہ ایک دن مرنا ہے، بیوی بچوں، مال جائیداد اور کاروبار کو چھوڑ کر جانا ہے -دنیا کی رنگینیوں اور دلفریب بہاروں کو خیرباد کہہ کر قبر کی آغوش میں پہنچنا ہے -موت کی بے رحم اور ان دیکھی تلوار بہت جلد تمہیں اس سارے سروسامان سے جدا کر کے رکھ دے گی جسے تم اپنے آرام ‘لزت اور آسائش کے لئے مہیا کرتے رہے ہو-
ایک مرتبہ حضور اکرم اسلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن مجید کی آیات تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے : حق شانہ جس کو ہدایت فرمانے کا ارادہ فرماتے ہیں اسلا م کے لئے اس کے سینہ کو کھول دیتے ہیں کہ اسلام کے متعلق اس کو شرح صدر ہو جاتا ہے اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسلام کا نور جب سینہ میں داخل ہو جاتا ہے تو سینہ اس کے لئے کھل جاتا ہے – کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کوئی علامت ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دھوکہ کے گھر سے دوری اور بغض پیدا ہو جاتا ہے –
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے کرلے جو کرنا ہے آخر موت ہے
آگاہ اپنی موت سے کوئی بشر نہیں سامان سو برس کا کل کی خبر نہیں

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں