گوادر میں روزانہ کئی گھنٹے بجلی کی بندش

بلوچستان کے شہر گوادر میں روزانہ کئی گھنٹے بجلی کی بندش یہاں کاروبار اور معمولات زندگی کو شدید متاثر کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے مقامی آبادی میں توانائی کے متبادل ذرائع کے استعمال کا رجحان فروغ پا رہا ہے۔
شہر میں جگہ جگہ جنریٹر اور شمسی توانائی فراہم کرنے والی پلیٹس کی کئی دکانیں نظر آتی ہیں اور اکثر ہوٹلوں اور دکانوں میں جنریٹر موجود ہیں جو ایرانی پیٹرول کی مرہون منت ہیں۔
گوادر کے بازار کے ایک دکاندار محمد عبداللہ کا کہنا ہے کہ جنریٹر کے استعمال سے اخراجات بڑھ جاتے ہیں، جس کا بوجھ یقیناً عام شہریوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے۔
ان کے مطابق بجلی کی بندش سے ‘گرمی میں تو نیند حرام ہو جاتی ہے، بچے تڑپتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ گوادر میں ترقی ہو رہی ہے درحقیقت کچھ بھی نہیں ہو رہا صرف سیاہ سڑکیں بن رہی ہیں۔’
گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے مطابق شہر میں اس وقت بجلی کی پیداوار 18 سے 20 میگاواٹ ہے جبکہ طلب 40 میگاواٹ سے زائد ہے۔

مچھیروں کی اس بستی کو اب حکومت پاکستان ایک صنعتی اور تجارتی مرکز بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جہاں بندرگاہ، فری ٹریڈ زون اور صنعتوں کے قیام کے ساتھ بجلی کی طلب میں اضافے کا امکان ہے اور حکام کے مطابق 2020 تک بجلی کی پیداوار کا تخمینہ 150 میگاواٹ لگایا گیا ہے۔
گوادر چین پاکستان اقتصادری راہدری میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ راہداری میں بجلی گھروں کے منصوبے بھی شامل ہیں جن پر گودار سے کئی سو کلومیٹر دور پنجاب اور سندھ میں تو عملدرآمد ہو رہا ہے مگر یہاں اس کا نام و نشان نظر نہیں آتا۔
حکومت پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال مارچ سے کوئلے سے چلنے والے بجلی گھر کی تعمیر کا آغاز ہوجائے گا، لیکن منصوبہ ابھی تک منظوری کے مرحلے میں ہے۔
گوادر کی حدود میں داخل ہوتے ہی سڑک کے دونوں اطراف میں ویران زمینوں پر صنعتی زون، فری زون، سبزی منڈی سمیت رہائشی منصوبوں کے پینافلیکس نظر آجاتے ہیں لیکن کوئی سرگرمی نظر نہیں آتی۔ مقامی طور پر اس کی ایک وجہ بجلی کی عدم دستیابی بھی بتائی جاتی ہے۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں