fake medicine market pakistan 79

پاکستان میں جعلی ادویہ کی بھرمار ہے

پاکستان میں جعلی ادویہ کی بھرمار ہے۔ اسی لیے اگر کسی دوا سے فائدہ نہ ہو تو ذہن میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہ دوا جعلی تھی۔ قوی امکان ہے کہ یہ خیال غلط ہو اور دوا اصلی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بیکٹیریا میں ان ادویہ کے خلاف قوت مزاحمت پیدا ہوچکی ہے۔ اسی لیے اینٹی بایوٹکس کی بڑھتی ہوئی تعداد بے اثر ہوتی جارہی ہے۔ طاقت وَر اینٹی بایوٹکس تیار کرنے کی ضرورت پر کئی برسوں سے زور دیا جارہا ہے۔
جراثیم میں ادویہ کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت سنگین صورت اختیار کرتی جارہی ہے۔ اسی کے پیش نظر عالمی ادارۂ صحت نے ایک بار پھر اپیل کرتے ہوئے کہ نئی اینٹی بایوٹکس فوری تیار کی جائیں۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق بیکٹیریا کی بارہ اقسام میں موجودہ اینٹی بایوٹک ادویہ کے خلاف زبردست مزاحمت پیدا ہوچکی ہے، اور یہ جراثیم انسانی صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکے ہیں۔ ماہرین صحت نے ان جراثیم کو مجموعی طور پر ’ سُپربگ‘ کا نام دیا ہے۔
گذشتہ برس عالمی بینک نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ جراثیم میں اینٹی بایوٹکس کے خلاف بڑھتی ہوئی مزاحمت اور سُپربگز کی وجہ سے 2050ء تک ایک کروڑ انسان موت کا شکار ہوسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کچھ ممالک کی معیشت بھی شدید متأثر ہوسکتی ہے۔
ڈبلیو ایچ او نے ان مہلک بیکٹیریا کی فہرست بھی جاری کی ہے۔ اس فہرست میں gram-negative bacteria کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔ یہ وہ بیکٹیریا ہیں جن میں ایک سے زائد اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت کی صلاحیت پیدا ہوچکی ہے۔ gram-negative bacteria اس لیے زیادہ خطرناک ہیں کہ یہ ادویہ کے خلاف مزاحمت کے نت نئے راستے تلاش کرلیتے ہیں۔ یہ صلاحیت جینز کے ساتھ دوسرے بیکٹیریا میں منتقل ہوجاتی ہے، نتیجتاً وہ بھی اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت کے قابل ہوجاتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں