گری دار میوے کھائیے ، صحت مند رہیے

گری دار میوے کھائیے ، صحت مند رہیے

یہ بات سوچ ہے کہ گری دار میوے اور مونگ پھلی کھانے سے قبض ہوجاتاہے اور یہ چیزیں کھانے والے فربہ بھی ہوجاتے ہیں ۔
کافی عرصے بعد جب اس نے بارے میں مطالعہ کیا تو اس کے خیالات میں تبدیلی آگئی ۔ اس نے ان چیزوں کو پابندی سے کھاناشروع کردیا۔
اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ بازار میں مونگ پھلی کامکھن بھی ملتا ہے ۔ وہ مکھن لے آیااور سلاد، سینڈوچ اور شام کوکھائی جانے والی چیزوں کے ساتھ اسے کھاناشروع کردیا۔ ہلکے نمکین مکھن سے ہر چیز میں ذائقہ پیداہوگیا ۔
۷۶۴۶۴ خواتین اور ۴۲۴۹۸مردوں پر کی گئی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جو افراد گری داری میوے کھاتے ہیں۔ ان کی عمریں طویل ہوتی ہیں۔ا نھیں دل کی بیماریاں اور سرطان کم ہوتا ہے۔ اسپین میں کی گئی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہ افراد جوبحیرہ روم (یورپ ، شمالی افریقہ اور جنوب مغربی ایشیا سے گھرا ہوا علاقہ ) کے ملکوں کی غذاؤں کے ساتھ گری دار میوے کھاتے ہیں، وہ زیادہ عرصہ جیتے ہیں۔ اس کا یہ مطلب ہرگزنہ لیاجائے کہ صرف گری دار میوے کھانے سے زندگی میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ طویل عمر کے لیے مضر صحت چیزوں سے بھی بچیں ، مثلا تمباکونوشی، مٹاپا، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس وغیرہ ۔
گری دار میوے کھائیے ، صحت مند رہیے آج کل اکثر لوگ گری داری میوے کھانا پسند نہیں کرتے ، ان کے فوائد کے پیش نظر وہ انھیں ضرور کھائیں اور اگربچوں کوان سے الرجی ہوتو انھیں نہ کھانے دیں۔ وہ خواتین جو زمانہ حمل کے دوران گری دار میوے یامونگ پھلی کھاتی ہیں،ان کے بچوں میں الرجی نہیں ہوتی۔ وہ بچے جنھیں ان چیزوں سے الرجی ہوتی ہے۔ ان کی ماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو چار سے گیارہ برس کی عمر میں گری دار میوے اور مونگ پھلی کھانے کودیں۔ اس کے مثبت نتائج نکلیں گے اور وہ یہ چیزیں شوق سے کھانے لگیں گے ۔
گری دار میوے مونگ پھلی اور اس کامکھن کھانے والوں کو یہ یقین کرناچاہیے کہ اگر وہ چیزیں اعتدال سے کھائیں گے توانھیں وزن بڑھنے کی کوئی شکایت نہیں ہوگی۔ انھیں یہ بات جان کر حیرت ہوگی کہ گری دار میوے کھانے سے وزن کم ہوجاتا ہے ۔
گری دار میوے کھائیے ، صحت مند رہیے ایک تحقیق کے مطابق وہ بالغ افراد ، جوگری دار میوے کھاتے ہیں، ان کا وزن ان افراد سے کم ہوتا ہے ، جوگری دار میووں کو نظرانداز کرتے ہیں۔ میوے کھانے والوں کا پیٹ کم ہوتا ہے اور جسم میں چکنائی بھی کم ہوتی ہے ۔
مغزیات سے ہمارا وزن کیسے قابو میں رہتا ہے ؟ اس سوال کی وضاحت یوں کی جاسکتی ہے کہ مغزیات میں شامل زیادہ چکنائی اور لحمیات کی بناپر انھیں کھانے کے بعد ہم آسودگی محسوس کرتے ہیں، لہٰذا مٹھائی نشاستے دار چیزوں اور شام کو چاے کے ساتھ کھائی جانے والی اشیا کی طرف طبیعت کم مائل ہوتی ہے ۔
مغزیات میں جو حرارے (کیلورز) ہوتے ہیں، وہ جسم میں جذب نہیں ہوپاتے، اس لیے وہ خامروں (ENZYMES) کی توڑ پھوڑ کے خلاف مزاحمت کرتے ہیں۔
گری دار میوے کھائیے ، صحت مند رہیے ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ وہ افراد جو مونگ پھلی کا مکھن یامونگ پھلی ناشتے میں کھاتے ہیں، ان کی نہ صرف بھوک، بلکہ خون میں شکر کی سطح بھی قابو میں رہتی ہے اور آٹھ سے بارہ گھنٹے تک کھانے سے رغبت کم ہوجاتی ہے ۔
اکثر لوگ عموماََ ناشتے میں نصف کیلا اور دوتوس کھاتے ہیں۔ ان توسوں پر وہ مونگ پھلی کا مکھن لگا لیتے ہیں اسے بھوک کم لگتی ہے اور کم کھانے کی وجہ سے اس کاوزن نہیں بڑھتا ۔
مغزیات اور مونگ پھلی کی چکنائی دل کونقصان نہیں پہنچاتی ، اس لیے کہ یہ غیرسیرشدہ ہوتی ہے ۔ ایک ماہر کے مطابق ایسے شواہد ملے ہیں کہ اگر روزانہ کی غذا میں ڈیڑھ اونس مغزیات شامل کرلیے جائیں تو عارضہ دل کے خطرات کم ہوسکتے ہیں۔ مغزیات میں ریشہ ہوتا ہے ، لہٰذا نھیں کھانے سے قبض نہیں ہوتا۔ اس کے علاوہ ان میں حیاتین (وٹامنز ) مانع تکسیداجزا (ANTIOXIDANTS) اور صحت بخش کیمیائی اجزا بھی ہوتے ہیں، اس لیے اپنی غذا میں مغزیات ضرور شامل کیجیے، تاکہ آپ تندرست وتوانا رہیں۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں