india vs china military 74

انڈیا اور چین ٹکراؤ کے راستے پر- جانئیے پوری بات

چھ ممالک کی اقتصادی تعاون کی تنظیم ’برِکس‘ کے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس رواں ہفتے چین میں ہونے والا ہے۔
اس اجلاس میں انڈیا کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال انڈیا کی نمائندگی کریں گے۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ 27 اور 28 جولائی کو ہونے والی دو روزہ کانفرنس کے دوران ڈوبھال کی اپنے چینی ہم منصب سے بھی ملاقات ہو سکتی ہے۔
برِکس میں برازیل، روس، انڈیا، جنوبی افریقہ اور چین پر مشتمل تیزی سے معاشی ترقی کرنے والے ممالک شامل ہیں
27 جون کو بھوٹان کی ڈوكلام سرحد پر چین نے انڈیا کی فوج پر سڑک کی تعمیر میں رکاوٹ کا الزام لگایا تھا۔
چین نے دعویٰ کیا تھا کہ سڑک کی تعمیر کا کام اس کے اپنے علاقے میں ہو رہا تھا۔ انڈیا نے ڈوكلام علاقے میں سڑک کی تعمیر کے بہانے چین کی مداخلت کی مخالفت کی تھی۔
دریں اثنا، چین کے سرکاری اخبار ‘گلوبل ٹائمز’ نے ڈوبھال کے مجوزہ چینی دورے پر اداریہ لکھا ہے۔

میڈیا کا کہنا ہے’انڈیا کو اپنی خام خیالی چھوڑ دینی چاہیے۔ اجیت ڈوبھال کا چینی دورہ دونوں ممالک کے درمیان جاری تنازعے کو انڈیا کی مرضی سے حل کرنے کے لیے صحیح موقع نہیں ہے۔ برِکس ممالک کے قومی سلامتی کے مشیروں کا اجلاس معمول کی ایک کانفرنس ہے جس کا مقصد برکس سمٹ کی تیاری کرنا ہے۔ یہ پلیٹ فارم چین – انڈیا سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے لیے نہیں ہے۔’
گلوبل ٹائمز کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ سرحدی تنازع کے پس پشت ‘سب سے بڑا دماغ’ ڈوبھال کا ہی ہے۔
اخبار کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا یہ آس لگائے بیٹھا ہے کہ ڈوبھال کے دورے سے موجودہ تنازعے کا حل نکل آئے گا۔
سرحدی تنازعے پر چین کے موقف کو دہراتے ہوئے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ چین اس بات پر قائم ہے کہ اس کے علاقے سے انڈین فوجیوں کو ہٹانے کے بعد ہی دونوں ممالک کے درمیان کوئی بامعنی بات چیت ہو سکے گی۔
اخبار نے مزید لکھا کہ ‘سرحدی تنازع پر ڈوبھال اگر سودے بازی کی کوشش کرتے ہیں تو انھیں مایوسی ہاتھ لگے گی۔ اس معاملے پر چین کی حکومت کے موقف کو تمام چینی لوگوں کی حمایت حاصل ہے۔ چین کے لوگ اس بات پر قائم ہیں کہ ہم اپنی زمین کا ایک انچ بھی نہیں چھوڑیں گے۔’

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں