India welcomed the new policy of America regarding Afghanistan 34

انڈیا نے افغانستان سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا

انڈیا نے افغانستان سے متعلق امریکہ کی نئی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا افغان عوام کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے ہوئے تعمیرو ترقی میں معاونت جاری رکھے گا۔
انڈیا نے کہا کہ ‘ہم پرامن، خوشحال اور مستحکم افغانستان کے لیے پرعزم ہیں۔’
انڈیا کے وزارتِ خارجہ امور کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘انڈیا افغانستان اور سرحد کے اُس پار دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے اور مختلف چیلنجز کا مقابلے کرنے کے لیے امریکہ کے اقدامات کا خیر مقدم کرتا ہے۔’
بیان کے مطابق دہشت گردی کے معاملے میں ‘انڈیا کے خدشات اور مقاصد مشترکہ ہیں۔’
ادھر افغانستان کے صدر اشرف غنی نے امریکی افواج کی ملک میں موجودگی کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیا اورامریکی عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اسے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد قرار دیا۔

 India welcomed the new policy of America regarding Afghanistan
India welcomed the new policy of America regarding Afghanistan
 India welcomed the new policy of America regarding Afghanistan
India welcomed the new policy of America regarding Afghanistan
 India welcomed the new policy of America regarding Afghanistan

India welcomed the new policy of America regarding Afghanistan

افغانستان کے صدارتی دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے افغانستان اور امریکہ شراکت داری اہم ترین موڑ پر ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘ہماری افواج اپنی طاقت سے طالبان سمیت دیگر دہشت گردوں کو یہ باوار کروائیں گی کہ وہ کبھی بھی ہم پر عسکری برتری حاصل نہیں کر سکتے ہیں۔ قیامِ امن ہماری ترجیح ہے۔’
افغان صدارتی دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ‘یہ دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ جدوجہد ہے۔’
یاد رہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پالیسی بیان میں کہا تھا کہ جلد بازی میں افغانستان سے افواج کے انخلا سے دہشت گردوں کو فائدہ ہو گا۔
پیر کو صدر ٹرمپ نے پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے بارے میں اپنی انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔
افغانستان کے بارے بات کرتے ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی افواج افغانستان میں رہیں گی اور اس بارے میں وہ زمینی حقائق پر مبنی فیصلے کریں گے جس میں ڈیڈ لائن نہیں ہوں گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کا پہلے ارادہ تھا کہ وہ افغانستان سے فوجیں جلد واپس بلا لیں گے لیکن وہ عراق میں کرنے والی غلطیاں نہیں دہرائیں گے اور اس وقت تک ملک میں موجود رہیں گے جب تک جیت نے مل جائے۔
صدر ٹرمپ نے افغانستان کی ترقی میں انڈیا کے کردار کی بھی تعریف کی اور ان پر زور دیا کہ وہ اقتصادی اور مالی طور پر بھی افغانستان کی مدد کریں۔
دوسری جانب انڈیا نے امریکی کی نئی پالیسی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا افغان عوام کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے ہوئے تعمیرو ترقی میں معاونت جاری رکھے گا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں