IPL-news 28

آئی پی ایل کی کمائی خاندان پرچھائی

آئی پی ایل کی کمائی خاندان پرچھائی اس بار انڈین پریمیئر لیگ یعنی آئی پی ایل کی نیلامی میں جہاں ایشانت شرما اور عرفان پٹھان جیسے کھلاڑیوں کو لینے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوا وہیں تمل ناڈو اور تلنگانہ کے دو نوجوان کھلاڑیوں پر قسمت مہربان نظر آئی۔
تمل ناڈو کے تھنگاراسو نٹراجن اور تلنگانہ کے محمد سراج دونوں کی بولی ڈھائی کروڑ روپے سے زیادہ لگی اور ان دونوں کا تعلق انڈیا کی جنوبی ریاستوں سے ہے۔
٭ سٹوکس آئی پی ایل کے سب سے مہنگے غیرملکی کھلاڑی
ریاست تمل ناڈو میں سلیم ضلع سے تقریباً 40 کلومیٹر کے فاصلے پر نٹراجن کا گاؤں ہے۔ ان کے والد ایک پاور لوم یونٹ میں روزانہ کی اجرت پر کام کرنے والے مزدور ہیں اور ان کی ماں ایک چکن کی دکان میں کام کرتی ہیں۔
حال میں وجود میں آنے والی ریاست تیلنگانہ کے محمد سراج کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ حیدرآباد میں سراج کے والد آٹو ركشا چلاتے ہیں۔ سراج کی ماں سال بھر پہلے تک دوسرے گھروں میں کام کرتی تھیں۔
’لیفٹ منی‘ کے نام سے مشہور نٹراجن کو ان کی بولنگ کے ليے کنگز الیون پنجاب کی ٹیم نے خریدا ہے۔ انھیں حاصل کرنے کے لیے آئی پی ایل کی اہم ٹیموں نے بولی لگائی اور آخر کار نٹراجن تین کروڑ روپے میں فروخت ہوئے۔
تمل ناڈو کرکٹ ایسوسی ایشن لیگ کے ٹورنامنٹوں کے لیے منتخب ہونے کے بعد ہی ان کے لیے باقاعدگی سے آمدنی کا انتظام ہو پایا۔
نٹراجن بتاتے ہیں ’میں گذشتہ چھ سال سے کرکٹ کھیل رہا ہوں اور گذشتہ تین سالوں میں سن مارك كیمپلاسٹ سے مجھے باقاعدہ تنخواہ مل رہی ہے۔ کالج میں میرا داخلہ سپورٹس کوٹے کے تحت ہوا اس لیے مجھے فیس نہیں دینی پڑتی ہے۔‘
نٹراجن کی طرح ہی سراج بھی اپنے مقروض والد کا قرض ادا کرنا چاہتے ہیں۔ سراج کو ان کے ہوم ٹاؤن کی ٹیم سن رائزرس حیدرآباد نے خریدا ہے۔
ان کی کم سے کم قیمت 20 لاکھ روپے رکھی گئی تھی، لیکن حیدرآباد نے اس سے 13 گنا زیادہ یعنی 2.6 کروڑ روپے کی بولی لگائی اور ان کی خدمات حاصل کی۔
سراج نے بتایا کہ ان کی ماں اس بات سے ناخوش تھیں کہ انھوں نے اپنے بڑے بھائی کی طرح پڑھائی نہیں کی۔
سراج تین سال پہلے تک صرف ٹینس گیند سے کھیلتے تھے اور کرکٹ باضابطہ گيند سے کھیلنا نصیب نہیں ہوا تھا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں