JIT configuration 80

جے آئی ٹی کی تشکیل جان بچی سو لاکھوں پائے- جانئیے اند کی بات

جس روز سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے دو ججوں نے نواز شریف کی برطرفی کے حق میں اور تین ججوں نے کوئی حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے قبل مزید تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کی تشکیل کا فیصلہ دیا اس روز شریف خاندان کے ایک رکن نے کہا ’گولی کنپٹی چھوتی گزر گئی‘۔

مٹھائی بانٹی۔ دونوں کیمپوں نے جے آئی ٹی کی تشکیل کا خیر مقدم کیا اور شریف خاندان کی جانب سے کہا گیا کہ ’ہم پورا تعاون کریں گے اور جو بھی فیصلہ ہوا اس کا احترام کریں گے‘۔ (پاکستان شاید اکلوتا ملک ہے جہاں عدالتی فیصلوں پر عمل کم اور احترام زیادہ ہوتا ہے)۔
مگر جیسے جیسے جے آئی ٹی کی جانب سے فلاں ابنِ فلاں بنتِ فلاں، برادرِ فلاں، دامادِ فلاں، ہم زلفِ فلاں حاضر ہو کی پکار پڑتی چلی گئی توں توں دھواں چھوڑنے والے گولوں اور کیچڑ اڑانے کا کام بھی تیز ہوتا چلا گیا۔
نون لیگ کے لشکر کے قلب نے پی ٹی آئی کو نشانے پر رکھا۔ میمنہ نے اسٹیبلشمنٹ (ملٹری کریسی ) اور میسرہ نے عدلیہ کو سیدھا نشانہ بنانے کے بجائے ہوائی فائرنگ پر رکھا۔ پیپلز پارٹی کا عبداللہ بھی دیوانہ ہو گیا مگر اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ کسے چھوڑے کسے نشانہ بنائے۔

 JIT configuration
JIT configuration

میڈیا ان بے مہار لمڈوں جیسا ہو گیا جو ہر کٹی پتنگ کے پیچھے ڈانگ اٹھائے بھاگنے اور ہر بارات میں پیسے لوٹنے کے ماہر ہوتے ہیں۔ اس ہڑا ہڑی میں خود جے آئی ٹی بھی کسی سے پیچھے نہ رہی۔ کام کے اس قدر دباؤ کے باوجود اس کے پاس ہر اخبار پڑھنے اور ہر چینل دیکھنے کی فرصت رہی۔
اس کا ثبوت سپریم کورٹ میں ہر پندھرواڑے پیش کی جانے والی وہ رپورٹ ہے جو آدھی سے زیادہ اس تحقیق پر مشتمل تھی کہ کس اخبار اور چینل میں جے آئی ٹی کے ارکان کے لیے کیا چھپا اور کیا بولا گیا۔
جے آئی ٹی میں شریک تفتیش کاروں کے اداروں نے بھی ایک دوسرے کی خوب خبر لی، کون روڑے اٹکا رہا ہے، کون تعاون کر رہا ہے، کون ریکارڈ میں تبدیلی کر رہا ہے، کون سا معلوم مگر نامعلوم ادارہ حسین نواز کی تصویر کی لیک کا ذمہ دار ہے، کون کس کے فون ٹیپ کر رہا ہے اور کون سے ادارے کے سادے جے آئی ٹی کے کس رکن کے گھر کے قریب مونچھوں کو تاؤ دیتے منڈلا رہے ہیں۔
یہ جے آئی ٹی قطری شہزادے کی وجہ سے بھی یاد رکھی جائے گی۔ جن کے بھیجے دو خطوط کا لبِ لباب وہی تھا جو کوئی معزز افسر بطور کرم فرمائی کیریکٹر سرٹیفکیٹ کے طور پر کسی بھی احسان مند کے لیے لکھ دیتا ہے۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں