kashmiri pandit reality 20

کشمیر میں موجود پنڈتوں کی حقیقت منظرعام پر– جانئیے پوری بات

کشمیر میں موجود پنڈتوں کی حقیقت منظرعام پر

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں موجود پنڈتوں کی حقیقت کے بارے بہت کم لوگ جانتے ھیں- آج آپکو ان پنڈتوں کی حقیقت سے روشناس کرواتے ہیں. کشمیر میں دو طرح کے پنڈت رہتے ہیں۔ ایک پنڈت وہ ہیں جن کا مذہب ہندو ہے اور دوسرے پنڈت وہ ہیں جو مسلمان ہیں۔ جی ہاں کشمیر کے کچھ مسلمان بھی آپنے نام کے ساتھ پنڈت لکھتے ہیں. جمعرات کی رات کشمیر میں جامع مسجد کے باہر جس پولیس افسر کا قتل ہوا ان کا نام ایوب پنڈت تھا۔
ایسے میں سوال ابھرتا ہے کہ کشمیر کے کچھ مسلمان اپنے نام کے ساتھ پنڈت کیوں لگاتے ہیں؟

اکثر لوگوں کو یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ کشمیر میں جن ناموں کے ساتھ پنڈت لگا ہے وہ ہندو ہیں. لیکن ایسا نہیں ہے۔
کشمیر میں کچھ مسلمان بھی پنڈت ٹائٹل لگاتے ہیں۔ یہ وہ مسلمان ہیں جنھوں نے اسلام قبول کیا ہے اور برہمن سے مسلمان ہو گئے۔
محمد دین فوق ایک مصنف جو کہ اپنی مشہور کتاب ‘کشمیر قوم کی تاریخ’ میں ‘پنڈت شیخ’ کے عنوان سے باب میں لکھتے ہیں کہ،
“کشمیر میں اسلام آنے سے پہلے تمام ہندو ہی ہندو تھے۔ ان میں ہندو برہمن بھی تھے۔ اس کے ساتھ ہی دوسری ذات کے بھی لوگ تھے لیکن برہمنوں میں ایک فرقہ ایسا بھی تھا جن کا پیشہ پرانے زمانے سے پڑھنا اور پڑھانا تھا۔”
انھوں نے اس کتاب میں لکھا ہے کہ “اسلام قبول کرنے کے بعد اس فرقے نے پنڈت نام کو شان کے ساتھ قائم رکھا۔ اس لیے یہ فرقہ مسلم ہونے کے باوجود اب تک پنڈت کہلاتا رہا ہے۔ لہذا مسلمانوں کا پنڈت فرقہ شیخ بھی کہلاتا ہے۔ احترام کے طور انھیں خواجہ بھی کہتے ہیں. مسلمان پنڈتوں کی زیادہ آبادی دیہی علاقوں میں ہیں۔”
ہ جو مسلمان پنڈت ہیں یہ کشمیر کے اصل باشندے ہیں۔ یہ باہر سے نہیں آئے ہیں۔ اصلی کشمیری تو یہ پنڈت ہی ہیں۔ ہم مسلمان بٹ کیوں لکھتے ہیں کیونکہ ہم نے مذہب تبدیل کیا ہے۔ پنڈت بھی بٹ لکھتے ہیں۔ بٹ کا مطلب ہے پنڈت جسے ہم کشمیری میں بٹا کہتے ہیں یعنی کشمیر کا ہندو پنڈت۔ اسی طرح پنڈتوں میں پیر بھی ہیں جبکہ پیر مسلمان اپنے ساتھ شامل کرتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں