Khatm e Nubuwwat 54

Khatm e Nubuwwat

ختم نبوت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے تمام انبیاء کرامّ اپنی ااپنی امت اپنے اپنے علاقے کے لئے تشریف لائے- ان کی تعلیمات اپنے علاقوں اور ایک عرصہ تک کے لئے مخصوص تھیں- بعد میں جو نبی تشریف لاتے وہ پہلے نبی کی تعلیمات میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے تنسیخ یا ترمیم کر دیتے مگر حضور کریم صلہ اللہ علیہ وسلم کی رسالت پوری نوح انسانی کے لئے ہے –

آپ خاتم الانبیاء ہیں چنانچہ قرآن کریم میں ہے
لوگو! محمد صلی اللہ علیہ وسلم تم مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم الانبیاء ہیں اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے: پھر ایک اور جگہ ارشاد فرمایا
اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے آپ کو تمام انسانوں کے لئے بشیر اور نزیر بنا کر بھیجا ہے مگر اکثر لوگ نہیں جانتے- اس بات کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف انداز میں بیان کیا ہے –
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا‘ میری اور مجھ سے پہلے گزرے ہوئے انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے عمارت بنائی اور خوبصورت بنائی مگر ایک طرف ایک اینٹ کی جگہ چھوڑ دی لوگ اس عمارت کےگرد پھرتے اور اس کی خوبی پر اظہار حیرت کرتے مگر کہتے تھے کہ اس جگہ اینٹ کیوں نہ رکھی گئی تو وہ اینٹ میں ہوں اور میں خاتم النبین ہوں-پھر فرمایا مجھ سے نبوت کی عمارت مکمل ہو گئی ہے اور مجھ پر رسولوں کا سلسلہ ختم ہو گیا ہے – (ترمزی)

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میری امت کے بعد کوئی امت نہیں نیز فرمایا:
ترجمہ: پس میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو(ابن ماجہ )
بقول علامہ اقبال:
لا نبی بعدی احسان خدا ہست
پردہ دین ناموس مصطفٰی است

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں