shaheed-kon-log-ho-gy 59

جو شخص یہ بات پسند کرے کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے

 صلہ رحمی:

رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ بات پسند کرے کہ اس کے رزق میں کشادگی کی جائے اور اس کی عمر دراز کہ جائے تو وہ رشتہ داروں سے اچھا برتاؤ کرے –

رزق میں کشادگی :

رزق میں فراوانی کی ایک وجہ اپنے قرابت داروں سے حسن سلوک ہے کیونکہ قرابت داروں سے تعلقات کشیدہ ہونا انسان کی ذہنی پریشانی کا باعث ہوتا ہے اور وہ اپنی پوری توجہ سے کوئی کام نہیں کر سکتا پھر رشتہ داروں سے حسن سلوک انسان کی صحت پر نہایت اچھا اثر ڈالتا ہے کچھ اس لئے کہ وہ پوری توجہ سے روزی کماتا ہے اور خوشحالہ حاصل ہوتی ہے- رشتہ داروں پر خرچ کرنےسے رزق بڑھتا ہے پھر بغض ، کینہ جیسی برائی اور جلن سے محفوظ رہنے کی وجہ سے کسی اعصابی مرض میں مبتلا نہیں ہوتا اور وہ تندرست اور صحت مند رہتا ہے اور روزی کمانے پر قدرت حاصل ہوتی ہے

kindness

عمر میں اضافہ:

اس کی دو شکلیں ہیں -اول عمر میں حقیقی اضافہ ہوتا ہے جیسا کہ تقدیر معلق کا ہونا-دوم عمر مین اضافہ سے مراد عمر میں برکت عطا ہوتی ہے – نیکیوں کی توفیق ملتی ہے اس کی عمر ذکر الٰہی اور امور خیر میں صرف ہوتی ہے نیز اس کے اعمال صالح کی وجہ سے دنیا میں اس کا ذکر خیر باقی رہتا ہے -نیک اولاد اس کے حق میں دعا کرتی ہے اس طرح اس کا نام زندہ رہتا ہے –
اس حدیث کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعا لیٰ نے لوح محفوظ میں لکھا ہے اگر یہ شخص ص
حمی کرے گا تو اس کے رزق میں وسعت اور برکت لہ رہوگی اور اس کی عمر بڑھا دی جائے گی- کارکنان قضاد قدر کو لوح محفوظ سے معلوم ہو جاتا ہے کہ مثلا شخص کی عمر پچاس سال ہے اور اسے اس قدر رزق ملنا چاہیے الایہ کہ وہ صلہ رحمی کرے -اگر وہ رشتہ داروں سے اچھا برتاؤ کرتا ہے تو اس کے برتاؤ کے تناسب سے اس کے رزق میں برکت اور وسعت ہوتی ہے اور اس کی عمر میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے اور اگر وہ صلہ رحمی نہیں کرتا تو اس کی عمر میں اضافہ نہیں ہوتا اور اس کے رزق میں وسعت اور برکت بھی نہیں ہوتی-

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں