شمالی کوریا بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ معطل کر

چین نے تجویز پیش کی ہے کہ شمالی کوریا بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر اپنے جوہری ہتھیاروں کے ٹیسٹ معطل کر دے۔
چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بدلے میں امریکہ اور جنوبی کوریا اپنی مشترکہ سالانہ فوجی مشقیں بھی روک سکتے ہیں جو کہ شمالی کوریا کو مسلسل پریشان کرتی ہیں۔
یاد رہے کہ یہ تجویز ایک ایسے وقت آئی ہے جب چند روز قبل ہی شمالی کوریا نے اعلان کیا تھا کہ انھوں نے چار میزائل تجربے کیے ہیں۔
اس اعلان کے بعد امریکہ نے جنوبی کوریا میں اپنا میزائل دفاعی نظام بچھانا شروع کر دیا ہے۔

چین روایتی طور پر شمالی کوریا کے چند حامیوں میں سے ایک اور اہم ترین ساتھی ملک ہے۔
چین کے سالانہ پارلیمانی اجلاس کے موقعے پر بات کرتے ہوئے چینی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ جزیرہ نما کوریا تیزی سے ایک دوسرے کی جانب بڑھتی ہوئی دو ٹرینوں کی طرح ہے جہاں کوئی کسی کو راستہ دینے کے لیے تیار نہیں۔
انھوں نے پوچھا ’کیا دونوں فریق ایک دوسرے سے ٹکرانے کے لیے تیار ہیں؟‘
انھوں نے کہا کہ فوجیوں کارروائیوں کی معطلی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے پہلا قدم ہوں گے۔
پیر کو شمالی کوریا کی جانب سے ٹیسٹ کیے جانے والے میزائلوں میں تین جاپان کی شمندری حدود میں گرے جس کے بعد جاپانی وزیراعظم سنزو آبے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خطہ خطرے کی ایک نئی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
اس سے پہلے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے شمالی کوریا کے اس قدم کی مذمت کی تھی اور اسے شمالی کوریا کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا تھا۔
جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ یہ سسٹم رواں برس کے آخر تک کام کرنا شروع کر دے گا۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں