مرنے سے پہلے مشعل خاں کا آخری انٹرویو

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں مشتعل طلبا کے ہاتھوں توہین مذہب کے الزام پر قتل ہونے والے طالب علم مشعل خان کی ہلاکت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور نامزد 20 ملزمان میں سے 8 کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔
آئی جی خیبر پی کے صلاح الدین محسود نے کہا کہ “زیادہ تر ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ذمہ داروں کیخلاف سخت کارروائی ہو گی”۔ ڈی پی او مردان ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق مشعل خان کی ہلاکت کا مقدمہ شیخ ملتون تھانے میں درج کیا گیا ہے اور اس میں قتلِ عمد کے علاوہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 بھی شامل کی گئی ہے۔ گرفتار 8 ملزمان کی شناخت ویڈیوز کے ذریعے کی گئی اور بقیہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے پولیس کی تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔
طالبعلم مشعل خان کو جمعہ کی صبح صوابی میں ان کے گاؤں زیدہ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ بی بی سی کے مطابق مشال خان کے جنازے میں 400 سے 500 افراد شریک تھے۔
عمران خان نے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ “ملک میں جنگل کا قانون نہیں چل سکتا۔ مردان واقعہ پر آئی جی خیبر پی کے کے ساتھ رابطے میں ہوں۔ واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی”۔
وزیراعلیٰ خیبر پی کے پرویز خٹک نے مردان یونیورسٹی کے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دیدیا اورکہا ہے کہ مشعل کے قتل کی جوڈیشل انکوائری ہو گی۔ شواہد نہیں ہیں کہ مشال نے خلاف دین بات کی ہو۔ موبائل ریکارڈ سے بھی کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ملی۔ ہجوم کو اشتعال دلاکر حملہ کرایا گیا‘ جوش میں قتل ہونے لگے تو ملک غلط سمت جائے گا‘ ایسی کارروائی ہو گی کہ لوگ قانون ہاتھ میں لیتے ڈریں گے جو کچھ مردان کی یونیورسٹی میں ہوا وہ ظلم اور بربریت ہے۔ ہجوم کو مشتعل کرنا کسی کا ذاتی فعل ہو سکتا ہے۔

مشعل خاں کی یونیورسٹی سے معطلی کے نوٹیفکیشن نے سب کو حیران کر دیا: جانیے

دوسری طرف واقعہ میں ملوث ملزمان کے ممکنہ بیرون ملک فرار ہونے کے باعث ان کے نا م ای سی ایل فہرستوں میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ صوبے کی تمام یونیورسٹیوں میں انتظامیہ کو الرٹ کر دیا گیا ہے ۔ واقعہ کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ وزارت داخلہ کو ارسال کردی گئی ہے۔
مقتول کے والد نے کہا ہے کہ کسی پر بیٹے کے قتل کا الزام نہیں لگا سکتا‘ کیمروں کی ریکارڈنگ موجود ہے‘ صرف بیٹا قتل نہیں ہوا حکومتی رٹ بھی چیلنج کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا حکومت اپنی رٹ کا پوچھے گی تو انکے بیٹے کا بھی پوچھ لے گی۔ والد نے مزید کہا کہ مشعل خاں گفتگو میں حضورؐ اور حضرت عمرکے حوالے دیا کرتا تھا۔ مشعل نے والدہ سے آخری بات چیت میں جمعہ کو گھر آنے کا وعدہ کیا تھا۔
قتل ہونے والے طالب علم مشعل کا انٹرویو سامنے آ گیا۔ مشعل نے اپنے انٹرویو میں طلبہ کے مسائل، وائس چانسلر اور اساتذہ کے رویئے پر تنقید کی اور کہا کہ وائس چانسلر سے طلباء کی ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے وائس چانسلر ڈاکٹر احسان 20 مارچ کو چلے گئے اور اس کے بعد واپس نہیں آئے وائس چانسلر کے دستخط نہ ہونے کی وجہ سے طلباء کی ڈگریاں رکی ہوئی ہیں۔ طلباء نے اس معاملے پر احتجاج کیا اور کیمپ بھی لگایا لیکن کوئی نہیں آیا کیونکہ یہ سب چور ہیں۔ وائس چانسلر کو چاہئے کہ وہ آکر طلباء کے مسائل کو حل کرے اور ڈگریوں پر دستخط کرے۔ ایک مسئلہ فیسوں کا ہے دوسرے تعلیمی اداروں میں 3 ہزار روپے فیس ہے جبکہ مردان یونیورسٹی میں 25 ہزار فیس لی جا رہی ہے۔ مشعل خاں نے مزید کیا کہا، آئیے سنتے ہیں:

علاوہ ازیں مشال خان سوشل میڈیا پر بڑے سرگرم تھے- مشال خان نے اپنی ایک تصویر شیئر کی اور دعا کی کہ اے رب مجھے بے فکری عطا کر یا علم کو سنبھالنے کی طاقت عطا فرما۔ ایک اور پوسٹ میں مشعل نے لکھا، میں اپنی کم علمی کو قبول بھی کر سکتا ہوں جبکہ تم آئینے کو سفید چادر میں ڈھانپنے میں مصروف ہو، تمہارے گناہوں اور میرے گناہوں میں فرق ہے میں گناہ کرتا ہوں تو میں آگاہ رہتا ہوں جبکہ تم اپنے ہی بنائے ہوئے تصورات کا شکار ہو۔ مشال نے مزید لکھاکہ جو شمع تم دوسروں میں جلانا چاہتے ہو پہلے خود میں جلاؤ۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں