ministry of economic affairs 165

احتساب عدالت کے کمرہ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ کیا ہوا- اہم خبر جانیئے

احتساب عدالت کے کمرہ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے ساتھ کیا ہوا:
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے ریفرنس میں فرد جرم عائد کر دی ہے جبکہ ملزم نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔
خواجہ آصف کا حافظ سعید اور حقانی نیٹ ورک بارے بڑا انکشاف –جانئیے پوری بات
وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی موجودگی میں ان پر عائد کیے گئے الزامات پڑھ کر سنائے جن سے انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ اُنھوں نے قانون کے مطابق اثاثے بنائے ہیں اور کوئی اثاثہ غیر قانونی ذرائع سے نہیں بنایا گیا۔
ملزم کے صحت جرم سے انکار کے بعد عدالت نے نیب کے پراسیکیوٹر کو حکم دیا کہ وہ اس معاملے میں مقدمے کو ثابت کریں جس کے بعد نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر نے گواہان کی فہرست عدالت میں پیش کی۔ عدالت کی طرف سے دو گواہوں کو چار اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔
ministry of economic affairs
ملزم کی طرف سے حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جس کی نیب کے حکام نے مخالفت کی۔
نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ نیب کا موقف تھا کہ اس مقدمے میں اسحاق ڈار واحد ملزم ہیں اور اگر انھیں حاضری سے استثنیٰ دیا گیا تو مقدمے کی کارروائی متاثر ہوگی۔ اس پر احتساب عدالت کے جج نے ملزم کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اُنھیں چار اکتوبر کو پیش ہونے کا حکم دیا۔
اس ریفرنس کی سماعت شروع ہونے سے پہلے اسحاق ڈار کی طرف سے پچاس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے عدالت میں جمع کروائے گئے۔ یہ مچلکے عدالت کے حکم پر ملزم کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے جمع کرائے گئے ہیں۔
سماعت سے قبل احتساب عدالت کے مرکزی دروازے کو بند کردیا گیا اور ملزم سمیت دیگر افراد کو کمرہ عدالت تک جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ ان حالات میں سکیورٹی کے عملے نے اسحاق ڈار کو گاڑی میں بیٹھنے کو کہا اور گاڑی سڑک پر کھڑی کردی جس کی وجہ سے ٹریفک بلاک ہوگیا۔
اس صورت حال کے بارے میں جب احتساب عدالت کے رجسٹرار کو بتایا گیا تو انھوں نے ملزم کو اس دروازے سے کمرہ عدالت میں جانے کی اجازت دی جہاں سے جج صاحبان کمرہ عدالت میں داخل ہوتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں