52

پاکستان میں اقلیتوں کا ملازمت کوٹہ-جانئیے پوری…

پاکستان کے قیام کے 70 سال کے دوران اقلیتوں کا ملازمتوں میں کوٹا 11 فیصد سے کم ہو کر پانچ فیصد ہوا اور اب اس پر بھی عمل درآمد نہیں کیا جاتا، یہ انکشاف ’مائناریٹیز آف فیتھ اینڈ بیلیف‘ کے عنوان سے کی گئی ایک ریسرچ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

وزیراعظم میاں نواز شریف نااہل قرار

سامی فاؤنڈیشن نامی غیر سرکاری تنظیم نے یہ تحقیق کراچی، سکھر اور عمرکوٹ میں کی ہے، جس میں اقلیتی نمائندوں کے علاوہ سول سوسائٹی کے گروپوں کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق سندھ کی آبادی کا اندازہ پانچ کروڑ 60 لاکھ لگایا گیا ہے، جس کا 91 فیصد مسلمان جبکہ نو فصید اقلیتی آبادی پر مشتمل ہے، جن میں ہندو، عیسائی اور پارسی شامل ہیں۔ نو فیصد میں ساڑھے آٹھ فیصد ہندو آبادی ہے جس کا 50 فیصد تھرپارکر میں آباد ہے۔
پاکستان کے پہلے وزیر قانون جوگندر ناتھ نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے ملازمتوں میں 11 فیصد کوٹا متعارف کرایا تھا اس نظام کے تحت ہندو، عیسائی، بہائی اور شیڈیول کاسٹ قبائل کو فائدہ پہنچا، شیڈیول کاسٹ کے لیے الگ سے چھ فیصد کوٹا رکھا گیا تھا۔

سنہ 1998 میں رانا چندر سنگھ اور شہباز بھٹی نے قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا، جس کے مطابق تمام اقلیتیں بشمول ہندو، احمدی، عیسائی، بہائی برادری پانچ فیصد کوٹے سے مستفید ہوں گی۔ یہ بات قابل حیرت تھی کہ وہ ارکان اسمبلی جو اقلیتوں کے نمائندے تھے انھوں نے 11 فیصد کوٹہ کم کر کے پانچ فیصد تک لانے کی ترمیم پیش کی۔
اس ترمیم کی وجہ سے مجموعی کوٹے میں کمی کے ساتھ ساتھ شیڈیول کاسٹ کا چھ فیصد علیحدہ کوٹا بھی ختم ہو گیا جس سے بھیل، کولھی، میگھواڑ، بالا، کبوترا قبائل مستفید ہوتے تھے اور مستقبل میں ان کے لیے سرکاری ملازمتوں کے دروازے بند کر دیے گئے اور وہ بڑے زمینداروں کے پاس کسان ہی رہے۔
موجودہ وقت سرکاری طور پر ملازمتوں میں کوٹا پانچ فیصد ہے لیکن صرف دو سے تین فیصد پر عمل درآمد کیا جاتا ہے، اس میں سے بھی لوئر گریڈ ملازمتیں دی جاتی ہیں، جو عام طور پر خاکروب، سینیٹری ورکرز یا 14 سے 15 گریڈ کے نیچے ہوتی ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں