آئرش میتیرینی مس یونیورس

مس یونیورس کے مقابلے کے آخری مرحلے میں پہنچنے والي تین خوبصورت لڑکیوں میں سے صرف کسی ایک ہی کو تاج ملنا تھا اور اس بار یہ اعزاز مس فرانس کے نام رہا۔
فلپائن کے شہر منیلا میں منعقد ہونے والے اس مس یونیورس مقابلے میں پارسی نژاد فرانسیسی حسینہ آئرش مترینی کو کائنات کی سب سے خوبصورت خاتون جج کیا گيا اور اس کے لیے ان کی تاج پوشی کی گئی۔
آئرش میتیرینی پیشے سے ڈینٹل سرجن ہیں۔
24 سالہ اس ڈاکٹر کا ارادہ ہے کہ اب انھیں جو مس یونیورس کے خطاب سے شہرت ملی ہے وہ اس کا استعمال دانتوں اور منہ کی صفائی کے فروغ کے لیے کریں گی۔
مس ہیتی ریکویل اس مقابلے میں دوسرے نمبر پر رہیں اور 23 سالہ مس کولمبیا اینڈریا ٹوؤر تیسرے نمبر پر رہیں۔
اس مقابلے میں انڈین نژاد روشمتا هریمورتی بھی شامل ہوئی تھیں لیکن وہ آخری مرحلے میں پہنچنے میں ناکام رہی تھیں۔
اسے محض اتفاق ہی کہا جا سکتا کہ 23 ​​برس قبل فلپائن کے شہر منیلا میں ہی انڈیا کی سشمیتا سین نے سنہ 1994 میں یہ خطاب اپنے نام کیا تھا اور اسی برس اس بار اس مقابلے میں حصہ لینے والی روشمتا هری مورتی کا جنم ہوا تھا۔
سشمیتا سین اس بار مس یونیورس مقابلے میں بطور جج شامل ہوئی تھیں جبکہ بنگلور سے تعلق رکھنے والی هری مورتی نے اس میں ایک امیدوار کے طور پر شرکت کی۔

Facebook Comments

اپنا تبصرہ بھیجیں