87

نوازشریف کی وزارت عظمیٰ کے بعد حکم -جانئیے پوری بات

نو منتخب وفاقی کابینہ پر ایک طائرانہ نظر دو باتیں ظاہر کرتی ہے کہ ایک یہ کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی نئی ٹیم پر نواز شریف کی شخصیت کی چھاپ نمایاں ہے اور دوسری یہ کہ یہ انتخابی کابینہ ہے۔
جمعے کے روز حلف اٹھانے والی 43 رکنی کابینہ میں 27 وفاقی وزرا اور 16 وزرائے مملکت شامل ہیں۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی اس کابینہ میں بیشتر لوگ تو نواز شریف کی کابینہ سے ہی لیے گئے ہیں لیکن بعض نئے نام بھی اس کابینہ میں شامل ہیں۔
لیکن جس طرح سے بعض اہم شخصیات کے عہدوں میں رد و بدل کیا گیا ہے وہ خاصا دلچسپ اور مسلم لیگ کے سربراہ نواز شریف کے مزاج اور پالیسیوں کا مظہر ہے۔
مثلاً خارجہ، دفاع اور داخلہ ان تین افراد کو دی گئی ہے جو نواز شریف کے بہت قریبی اور قابل اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔

خواجہ آصف، خرم دستگیر خان اور احسن اقبال یہ تینوں وہ لوگ ہیں جن کے نام نواز شریف کی رخصتی کے بعد وزارت عظمیٰ کے لیے زیر غور آئے تھے اور نواز شریف ان میں سے کسی کو بھی وزارت عظمیٰ کے لیے منتخب کر سکتے تھے۔
ان تینوں شخصیات کے بارے میں پارٹی کے اندر یہ تاثر بہت عام ہے کہ یہ حضرات نواز شریف کے ’یس مین‘ ہیں۔
ان تینوں شخصیات کو ایسے عہدے دینا جن کا کسی نہ کسی سطح پر فوج کے ساتھ براہ راست تعلق بنتا ہے، ظاہر کرتا ہے کہ نواز شریف فوج کے ساتھ معاملات میں کتنے حساس ہیں اور یہ معاملہ اب بھی اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے ہیں۔
لاھور سے تعلق رکھنے والے سینیئر صحافی فرخ سعید خواجہ کے مطابق ان تین افراد کو اہم اور حساس ترین عہدے دینا ثابت کرتا ہے کہ حکومت ’محاذ آرائی‘ کے راستے پر جا رہی ہے۔
’جو چیز ان تینوں میں مشترک ہے وہ جدوجہد ہے۔ خواجہ آصف، احسن اقبال اور خرم دستگیر خان تینوں مشکل وقت میں کھڑے رہنے والے اور جدوجہد کرنے والوں میں سر فہرست ہیں۔ اس طرح کے لوگوں کو لانا اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہتھیار نہیں ڈالنے۔‘

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں