69

وزیراعظم میاں نواز شریف نااہل قرار

ملکی سیاست میں رونما ہونے والے حالیہ واقعات کے تناظر میں پاکستان کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ستارے گردش میں ہیں اور سپریم کورٹ نے انھیں نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے اہلخانہ کے خلاف پاناما لیکس کے حوالے سے قومی احتساب بیورو میں ریفرینس دائر کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے جب نواز شریف اور ان کے خاندان کو عدالتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ماضی میں بھی نواز شریف کو اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے مختلف نوعیت کی عدالتی کاروائیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور ان میں سے دو مقدمات میں ان کو سزا بھی ہوئی تھی۔ البتہ ایسا پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ان کے خلاف عدالتی کاروائی ان کے اپنے دورِ حکومت میں شروع ہوئی ہو۔
1994: بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں ایف آئی اے کے چالان
ماضی میں وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ہونے والی عدالتی کارروائیوں پر نظر ڈالیں تو ان کے خلاف سب سے پہلی کارروائی 23 سال قبل بینظیر بھٹو کے دوسرے دورِ حکومت میں ہوئی جب اکتوبر 1994 میں ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف رمضان شوگر ملز کے حوالے سے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دی گئی۔

اس کیس میں شریف خاندان پر رقم کی خوردبرد اور غیر مجاز استعمال کا الزام تھا اور اس کی تفتیش سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کی تھی تاہم 20 سال بعد یعنی سنہ 2014 میں یہ معاملہ رمضان شوگر ملز اور مدعی کے درمیان طے پا گیا۔
1994 میں ہی نومبر کے مہینے میں میں وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے حدیبیہ پیپر ملز اور حدیبیہ انجنیئرنگ کمپنی کے خلاف خصوصی عدالت میں چالان جمع کرایا جس میں نواز شریف پر دھوکہ دہی اور رقم خورد برد کرنے کے الزامات لگائے گئے تھے۔

1997 میں جب نواز شریف نے دو تہائی اکثریت سے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے دوسری دفعہ وزارت عظمی سنبھالی تو لگتا تھا کہ ان کے سیاسی مخالفین اب کچھ بگاڑ نہ سکیں گے لیکن ڈھائی برس کے قلیل عرصے بعد ہی ان کے چنندہ آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے اکتوبر 1999 میں ان کا تختہ الٹ دیا۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں