questionable 34

احادیث مبارکہ

احادیث مبارکہ
:ترجمہ
تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے –
:تشریح
ذمہ داری اور نگہبانی ایک ایسا فرض ہے جو کسی بھی انسان کے لیے معاف نہیں ہے -حکمران اپنی رعایا کے حقوق کی نگہداشت اور ان کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار ہے -ماں باپ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے سلسلے میں جواب دہ ہیں حتیٰ کہ کسی دفتر کا ایک کارکن بھی اپنے کاموں کا ذمہ دار ہے اور اس سلسلے میں اسے بھی اللہ کی بارگاہ میں جواب دہ ہونا پڑے گا-لہٰزا لازم آتا ہے کی ہم اپنی ذمہ داریوں کو دیانت اور محنت سے ادا کریں-ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
ترجمہ: لوگوں میں اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے –
:تشریح
قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ اس دنیا میں عزت اور کامیابی انھی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو خلق خدا کو فائدہ پہنچاتے ہیں اور انسانیت کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں رہتے ہیں- اس حدیث میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے لہٰزا ہمیں چاہیے کہ تعلیم کے ذریعے بھی لوگوں کو نفع پہنچائیں-ماحول کو صاف ستھرا رکھنا بھی انسانی بہبود کے لیے ضروری ہے -پڑوسیوں کا خیال رکھنا انھیں اذیت اور تکلیف میں مبتلا ہونے سے بچانا بھی ان کے حقوق کی پاسداری اور انھیں فائدہ پہنچاناہے- درخت لگانے سے ماحول کی آلودگی کو کم کیا جا سکتا ہے – درخت بارش کا سبب بنتے ہیں اور ہوا کو صاف کرتے ہیں – ان سب پہلوئوں سے مخلوق خدا کی خدمت کرنا خیرالناس بننے کا بہترین طریقہ ہے –

رشاد باری تعا لیٰ ہے
ترجمہ
وہ ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نی کرے اور ہمارے بڑوں کا احترام نہ کرے-
:تشریح
انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے اللہ کی صفات کا مظہر ہانا چاہیے -اس بناپر انسان سے یہ توقع کی گئی ہے کہ وہ اپنے اندر اپنے خالق کی صفات پیدا کرے اور اپنے قول وفعل سے ان کا اظہار بھی کرے- مثلا
اللہ کی صفت ہے کہ وہ عادل ہے اس لیے انسان عدل کرے اللہ درگزر کرتا ہے – انسان کو بھی چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کی خطاؤں اور غلطیوں سے درگزر کرے-

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں