rape case nepal 17

نیپال کی ایک خاتون کے ساتھ ذیادتی

انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں پولیس نے نیپال کی ایک خاتون کے ساتھ ریپ کے معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس کے ایک افسر نے ریپ کے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریپ کے اس معاملے کے تمام ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔
نیپال کی رہنے والی خاتون کی طبی جانچ میں ریپ کی تصدیق ہوئی ہے اور میجسٹریٹ کے سامنے خاتون کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ واقع دہلی کے پانڈو نگر میں پیش آیا۔ ایک فلیٹ میں نیپالی خاتون کو جبراً شراب پلائی گئی۔ اس کے بعد پانچ لوگوں نے باری باری سے مبینہ طور پر ان کا ریپ کیا اور انھیں گھر میں بند کر کے فرار ہو گئے۔
اس کے بعد خاتون نے پہلی منزل کے اس فلیٹ سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ اس کوشش میں اس کا پیر ٹوٹ گیا۔
پاس سے گزرنے والے لوگوں کو اس نے اپنی آپ بیتی سنائی۔ ان میں سے ایک نے پولیس کو اس واقعے کی اطلاع دی۔
پولیس کے مطابق پانچوں ملزمان کال سینٹر میں کام کرتے ہیں۔
خاتون کی شکایت کی بنیاد پر ملزمان پر اجتماعی ریپ، غیر قانونی طریقے سے نظر بند کرنے اور غیر فطری جنسی تعلقات قائم کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔
ریپ کا شکار نیپالی خاتون اپنے دو بچوں کے ساتھ جنوبی دہلی میں رہتی ہیں اور وہ ملزمان میں سے ایک کو پہلے سے جانتی تھیں۔
دہلی میں گینگ ریپ کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل 16 دسمبر سنہ 2012 میں چلتی بس میں ریپ کے معاملے نے پورے ملک میں سنسنی پھیلا دی تھی اور پھر ریپ کے متعلق قانون میں سختی لائی گئی تھی تاہم اس میں کمی نہیں دیکھی جا رہی ہے۔
مبصرین کا خیال ہے کہ انڈیا میں خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات عام ہیں اور سخت قوانین کے باوجود ان میں کمی نظر نہیں آ رہی ہے

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں