business news update 20

حقیقی مفلس کون ہے؟

حقیقی مفلس کون ہے؟
دنیا میں افلاس بعض اوقات زندگی میں بھی ختم ہو جاتا ہے ورنہ موت اس کا خاتمہ کر دیتی ہے لیکن آخرت کا افلاس تو انسان کو دوزخ میں پھینک دیتا ہے- افلاس مال کے نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ حقیقی مفلس وہ ہے جو وہاں نیکیوں کا سرمایہ لے کر نہ جا سکے یا یہ سرمایہ لے جائے لیکن خلق خدا پر ظلم کرنے اور ان کا حق مارنے کی وجہ سے اپنی نیکیوں کے سرمائے سے ہاتھ دھو بیٹھے-
حقیقی مفلس کا حال
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مفلس کی حالت بیان فرما ی ہے جو دنیا میں صاحب جائیداداور مالدار ہونے کے باوجود قیامت کے دن دیوالیہ اور نادر ثابت ہو گا- یہ شخص بڑے اہتمام سے روزانہ پانچوں نمازیں پڑھتا تھا- ہر سال رمضان کے مہینہ کےروزے رکھتا پھر اپنے مال کی زکوٰتہادا کرتا تھالیکن خلق خدا کے ساتھ اس کا رویہ اچھا نہیں تھااللہ تعالیٰ ہر مظلوم کو اس کی نیکیوں کا اجر عطا فرمائے گا لیکن اگر ان کی نیکیاں ختم ہو گیئں اور مظلوموں کے حقوق باقی رہ گئے تو ان کا گناہوں کا بوجھ اللہ تعالیٰ اس کی پیٹھ پر لاد دے گا پھر یہ بد بخت اپنے اور ان کے گناہوں کی سزا بھگتنے کے لئے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا بعض دیندار وظائف میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہےں اور اللہ نے انہیں شب بیداری کی توفیق بھی بخشی ہوتی ہے لیکن وہ لین دین اور معاملات میں قابل اعتماد نہیں ہوتے -خالق کی عبادت کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ خلق کے حقوق پر دست درازی کر کے اپنی عاقبت کو خراب نہ کریں – اللہ تعا لیٰ مخلوق پر ظلم کرنے والوں کی عبادت بھی قبول نہیں کرتا-
حقوق العباد کی اہمیت
حقوق العباد کی ادائیگی اسلام میں اولین اہمیت کی حامل ہے
دنیا میں ایسے نیک صورت بہت ملیں گے جو حقوق العباد کے سلسلے میں ظالم ہوتے ہیں ان کے ظاہر اور باطن میں تضاد ہوتا ہے

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں