68

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ کینسر کے موجب ممکنہ کیمیائی مادوں کے استعمال میں کمی لانے کے لیے بریڈ، چپس اور آلو کو بھورے کے بجائے ہلکے پیلے یا سنہرے ہونے کی حد تک ہی پکایا جائے۔
ان کا کہنا ہے کہ سٹارچ یا نشاستہ والی غذاؤں کو اگر زیادہ دیر تک زیادہ درجۂ حرارت پر بھونا، تلا یا گرل کیا جاتا ہے تو اس سے ایکریلامائڈ نامی کیمیائی مادہ پیدا ہوتا ہے۔
برطانیہ کی فوڈ سٹینڈرڈ ایجنسی (ایف ایس اے) نے کھانا پکانے کے طریقوں کو احتیاط سے برتنے کی صلاح دی ہے اور زیادہ بھوننے سے منع کیا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ دوسرے جانداروں میں کینسر اور ایکریلامائڈ کے درمیان تعلق پایا گیا ہے اور اسی وجہ سے انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انسانوں میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔
تاہم برطانیہ کے کینسر ریسرچ ادارے کا کہنا ہے کہ انسانوں میں ابھی تک یہ تعلق ثابت نہیں کیا جا سکا ہے۔
ایف ایس اے کا کہنا ہے کہ آلو اور گاجر کو فرج میں نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ کم درجۂ حرارت پر سبزیوں میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے اور ایسی ٹھنڈی سبزیوں کو پکانے سے ایکریلامائڈ کی زیادہ مقدار بننے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے۔
خیال رہے کہ ایکریلامائڈ مختلف قسم کے کھانے میں پکانے سے فطری طور پر پیدا ہونے والا مادہ ہے اور اس کی سب سے زیادہ مقدار ان غذاؤں ملی ہے جن میں نشاستہ کی مقدار زیادہ ہوتے ہیں اور انھیں 120 سیلسیئس سے زیادہ درجۂ حرارت پر پکایا گيا ہو جیسے کہ کرسپ، بریڈ، ناشتے کے اناج، بسکٹ، کریکرز، کیک، کافی اور بھنی ہوئی بینز۔
یہ مادہ زیادہ سٹارچ والے کھانوں کو تیز آنچ پر پکانے سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ جیسے بریڈ کو جب ٹوسٹ بنانے کے لیے گرم کیا جاتا ہے تو اس سے مزید ایکریلامائڈ پیدا ہوتا ہے۔ ٹوسٹ کا جتنا گہرا رنگ ہوگا اس میں اتنا ہی زیادہ ایکریلامائڈ موجود ہوگا۔
سینکنے کے دوران بریڈ میں موجود شکر، امینو ایسڈ اور پانی مل کر رنگ اور ایکریلامائڈ پیدا کرتے ہیں۔ اس لیے سائنسداں زیاد گرم کرنے اور بعض اشیا کو فرج میں رکھنے سے منع کرتے ہیں۔

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں