senior politicians latest sayings supreme court jit 116

شیخ رشید نے سپریم کورٹ میں ایسا کیا کہا کہ— جانئیے پوری بات

سپریم کورٹ کا کورٹ روم نمبر دو جہاں پر پاناما لیکس پر عملد درآمد سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہو رہی ہے، عدالتی کارروائی شروع ہونے سے پہلے ہی ایک بار مکمل طور پر بھر چکا تھا۔ منگل کے روز عدالتی کارروائی کو دیکھنے کے لیے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے دیگر رہنما بھی کمرہ عدالت میں موجود تھے۔
جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ سماعت کے دوران کافی جارحانہ موڈ میں تھا اور بینچ میں موجود جج صاحبان نے وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو ’ٹف ٹائم‘ دیا اور اُن سے ان کے موکل کے اثاثوں اور لندن فلیٹس کے بارے میں سوالات کیے جس پر وہ کافی دباؤ میں نظر آئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے جے آئی ٹی میں وزیر اعظم کی طرف سے دیے گئے ردعمل پر بھی آبرزویشن دیں کہ اُن کی اپروچ یہی تھی کہ جے آئی ٹی کو کچھ نہیں بتانا۔
خواجہ حارث کی طرف سے جب یہ سوال اُٹھایا گیا کہ دستاویزی ثبوت صرف وہی تسلیم کیے جائیں گے جو ایک ملک کی حکومت دوسرے ملک کی حکومت کو بھیجتی ہے جس پر بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ’جے آئی ٹی نے برطانیہ کی متعقلہ اداروں کو ہی خط لکھا ہوگا ملکہ کو تو چھٹی نہیں لکھی جاسکتی‘ جس پر کمرہ عدالت میں ایک زوردار قہقہ بلند ہوا۔

عدالت کی طرف سے جے آئی ٹی کی رپورٹ کے والیم نمبر دس کو عام کرنے پر رضامندی ظاہر کرنے کے بعد وزیر اعظم کے وکیل نے اس والیم کے بارے میں کوئی ردعمل نہیں دیا جبکہ ان کے موکل کی طرف سے جو اعتراضات اُٹھائے گئے تھے اس میں ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جے آئی ٹی کے والیم نمبر دس کی کاپی فراہم کی جائے۔
سماعت کے دوران عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو ساتھ ساتھ لیکر چلتے ہوئے دکھائی دیے۔
سپریم کورٹ رپورٹرز ایسی ایشن کے ساتھ بات چیت کے دوران جب صحافیوں نے پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے دوران ماضی قریب میں ناخوشگوار تعلقات کے بارے میں دریافت کیا تو شیخ رشید نے مداخلت کی اور کہا کہ ’اگر نیک کام یعنی نواز شریف کو ہٹانے کے لیے دونوں جماعتیں اکٹھی ہوگئی ہیں تو میڈیا کو اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔‘

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں