shaheed-kon-log-ho-gy 72

شھید کون لوگ ہوتے ہیں

شھید کون لوگ ہوتے ہیں
شہادت کا بلند ترین مرتبہ صرف اس مسلمان کے لئے ہے جو اسلام اور کلمہ حق کی سر بلمدی کے لئے کفار اور مشرکین کے خلاف لڑائی کرتا ہوا اپنی جان کا نذرانہ اللہ کے حضور پیش کر دے – وہی حقیقی معنوں میں شہید کہلائے کا مستحق ہے لیکن صحیح احادیث سے بھی معلوم ہوا ہے کہ شہادت کے ثواب کا کچھ حصہ ان ایمان والوں کو بھی ملتا ہے جو مظلومی کی حالت میں حدثے کی صورت میں وباء کی وجہ سے پانی میں غرق ہونے کی وجہ سے یا درخت یا دیوار گرنے کی وجہ سے وفات پا جاتے ہیں
اس حدیث میں جو احکام بیان ہوئے ہیں وہ صرف شہید کے بارے میں ہیں جو میدان جنگ میں شہادت کا اعلیٰ ترین رتبہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو-امام قدوری نے مندرجہ ذیل احکام کا تزکرہ کیا ہے
شہید وہ ہے جسے مشرکوں نے قتل کیا ہو یا میدان جنگ میں پایا جائے اور اس کے جسم پر زخموں کے نشان ہوں یا جسے مسلمانوں نے ظلما قتل کیا ہو لیکن اس کے قتل کی وجہ سے دیت واجب نہ ہو یعنی وہ قتل خطا نہ ہو بلکہ واجب القصاص قتل ہو
ایسے شہید کو کفن دیا جائے گا نماز جنازہ پڑھی جائے گی لیکن اسے نہلایا نہیں جائے گا
اگر کسی شخص کے متعلق یہ معلوم ہو کہ اس پر غسل واجب تھا اور اسے شہادت نصیب ہوئی تو اسے غسل دیا جائے گا
شہید کے جسم پر لگا ہوا خون نہ دھویا جائے گا اور نہ ہی اس کے بدن سے کپڑے اتارے جائیں – البتہ چمڑے کا کوٹ اور صدری وغیرہ اور موزے اور ہتھیار اگر اس پر ہوں تو اتار دئے جائیں
جو زخمی مرنے سے پیشتر کھا پی لے یا دوائی استعمال کرے یا ایک نماز کا وقت گزر جانے پر بھی زندہ اور ہوش و ہواس میں رہے یا میدان جنگ میں زندہ اٹھا لیا جائے تو اسے غسل دیا جائے

Facebook Comments

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں